المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بترك القتال فِي الفتنة باب: فتنے کے زمانے میں قتال ترک کرنے کا حکم۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ يَقْتُلُهُ ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ، أَنْ يَكُونَ هَكَذَا ، فَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، فَيَكُونُ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ ، فَإِذَا هُوَ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِذَا بِقَاتِلِهِ فِي النَّارِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ جب اس کے پاس کوئی شخص اسے قتل کرنے کے ارادے سے آئے—یعنی اہل قبلہ میں سے—تو وہ اس طرح (خاموش اور بے دست و پا) ہو جائے؟“ پھر آپ ﷺ نے (عمل کے ذریعے سمجھاتے ہوئے) اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا اور فرمایا: ”پس وہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر (یعنی ہابیل) کی مانند ہو جائے، ایسی صورت میں وہ تو جنت میں ہو گا جبکہ اس کا قاتل آگ (جہنم) میں ہو گا۔“
اس حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم اپنے حافظے کی بنا پر ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم فتنوں کے وقت مقتول بننے کو قاتل بننے پر ترجیح دینے کا یہ مفہوم دیگر صحیح احادیث (مثلاً سنن ابی داود: 4259) سے ثابت ہے جس کی وجہ سے یہ روایت معنی کے اعتبار سے درست ہے۔