❮
❯
حدیث نمبر: 4353
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ الْيَمَامِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : عَمْرٌو ، حَدَّثَنِي عَمِّي قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَةَ ، فَلَمَّا حَاذَيْنَا بِوَادٍ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَأْتِكَ ؟ قَالَ : فَأْتِنِي بِرَأْسِهِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَجِبِ الْأَمِيرَ . فَقَالَ : مَنِ الْأَمِيرُ ؟ فَقُلْتُ : مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ . فَقَالَ : وَمَا يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَ بِيَ الْأَمِيرُ وَقَدْ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ ، فَمَا نَكَثْتُ وَلَا بَدَّلْتُ ؟ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَقُلْتُ : آتِيهِ بِرَأْسِكَ . قَالَ : فَهَاتِ . قُلْتُ : فَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى ذَلِكَ . فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ فَقَالَ : إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يُبَايِعُونَ الْأَمِيرَيْنِ فَخُذْ سَيْفَكَ الَّذِي جَاهَدْتَ بِهِ مَعِي فَاضْرِبْ بِهِ أُحُدًا حَتَّى يَنْكَسِرَ ، ثُمَّ اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ .
قُلْتُ : رَوَى أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِهِ حَدِيثًا فِي الْمَعْنَى غَيْرَ هَذَا ، وَلَيْسَ هَذَا بِالسِّيَاقِ ، وَلَا فِيهِ : حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ ... إِلَى آخِرِهِ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ لَيِّنٌ فِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ حَالُهُ .
ترجمہ

عمرو کے چچا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں مسلم بن عقبہ کے ساتھ نکلا، جب ہم ایک ایسی وادی کے برابر پہنچے جہاں سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مقیم تھے تو مسلم نے مجھے ان کی طرف بھیجا، میں نے (جانے سے قبل) پوچھا کہ اگر وہ آپ کے پاس آنے سے انکار کر دیں تو آپ کا کیا حکم ہے؟ اس نے کہا: ”پھر ان کا سر کاٹ کر میرے پاس لے آنا۔“ چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ امیر کی پکار پر لبیک کہیے (ان کے پاس چلیے)۔ انہوں نے پوچھا: ”امیر کون ہے؟“ میں نے کہا: مسلم بن عقبہ۔ انہوں نے فرمایا: ”امیر میرے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر اپنے اسی ہاتھ سے بیعت کی تھی، پھر نہ تو میں نے کبھی عہد شکنی کی اور نہ ہی (اپنے دین و ایمان میں) کوئی تبدیلی کی ہے۔“ (یہ سن کر) میں نے اپنی تلوار میان سے کھینچ لی اور کہا کہ میں امیر کے پاس آپ کا سر لے کر جاؤں گا۔ انہوں نے (نہایت استقامت سے) فرمایا: ”تو پھر لے جاؤ (میرا سر کاٹ لو)۔“ میں نے پوچھا کہ آپ کو اس طرزِ عمل پر کس چیز نے ابھارا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا اور فرمایا تھا: ”جب تم دیکھو کہ لوگ دو امیروں کی بیعت کر رہے ہیں تو اپنی وہ تلوار اٹھانا جس کے ساتھ تم نے میرے ہمراہ جہاد کیا تھا اور اسے (جبلِ) احد پر دے مارنا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے، پھر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ تمہارے پاس کوئی خطاکار ہاتھ (تمہیں قتل کرنے) آ جائے یا تمہیں طے شدہ موت آ لے۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں: امام احمد رحمہ اللہ نے انہی کی سند سے اس مفہوم کی ایک اور حدیث روایت کی ہے لیکن اس کا سیاق و سباق یہ نہیں ہے، اور نہ ہی اس میں یہ الفاظ ہیں: ”یہاں تک کہ تمہارے پاس کوئی ہاتھ آ جائے...“ حدیث کے آخر تک، نیز یہ اسناد کمزور ہے کیونکہ اس میں ایسا راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتن / حدیث: 4353
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِلَى آخِرِهِ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ لَيِّنٌ فِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ حَالُهُ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»