❮
❯
حدیث نمبر: 4352
قَالَ إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَزُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ مَعَ الْأَشْعَرِيِّ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ : يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ أَوْ أَسِيرٌ يُحْكَمُ فِي دَمِهِ ، فَقَالَ لَهُ زُرْعَةُ : أَيَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَقَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ . وَثَنٌ كَانَ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : فَذَكَرْنَا لِعُمَرَ قَوْلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : عَبْدُ اللهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ . قَالَ : فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَوْلَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو : صَدَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَى أَمْرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ الَّذِي قُلْتَ .
قُلْتُ : فِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ قَتَادَةَ وَأَبِي الْأَسْوَدِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
[
4352 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ بِهِ بِنَحْوِهِ .
4352 \ 3 - وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ بِهِ .
4352 \ 4 - وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .
4352 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهِ .
ترجمہ

ابو الاسود الدیلی سے روایت ہے کہ میں اور زرعہ بن ضمرہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جانب روانہ ہوئے، تو میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہوئی، انہوں نے فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ عجم کی سرزمین پر کوئی عرب باقی نہیں رہے گا سوائے اس کے کہ وہ قتل کر دیا جائے یا ایسا قیدی بن جائے جس کے خون کا فیصلہ (دشمن کے اختیار میں) ہو۔“ اس پر زرعہ نے ان سے پوچھا: کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے دریافت کیا: تم کس قبیلے سے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں بنو عامر بن صعصعہ سے ہوں۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بنو عامر بن صعصعہ کی عورتوں کے کندھے «ذِي الْخَلَصَةِ» پر (طواف یا ہجوم کی وجہ سے) ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے لگیں۔“ اور ذو الخلصہ جاہلیت کے بتوں میں سے ایک بت تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا: ”عبداللہ جو کہہ رہے ہیں، وہ اسے (مجھ سے) زیادہ جانتے ہیں۔“ پھر اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور اللہ کی نصرت یافتہ رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد بتایا تو انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ نے سچ فرمایا ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) جب اللہ عزوجل کا حکم آ جائے گا تو پھر وہی کچھ ہو گا جو میں نے کہا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند میں قتادہ اور ابو الاسود کے درمیان انقطاع ہے، تاہم اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہم سے ابو خیثمہ نے، انہوں نے معاذ بن ہشام سے اسی طرح روایت بیان کی۔
نیز ہمیں ابو سعید نے بھی معاذ کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی۔
امام ابو داؤد نے کہا: ہم سے ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے سلیمان بن ربیع سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی سمینہ بصری نے بیان کیا، انہوں نے ابو داؤد سے یہی حدیث روایت کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتن / حدیث: 4352
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: فِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ قَتَادَةَ وَأَبِي الْأَسْوَدِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 1920، 2889، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 2176، 2229، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4252، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 10، 3952، وأخرجه مسند أحمد برقم: 21888، 21897، 21946، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 209، وأخرجه فتح الباري برقم: 3413، 4352، 6683، 6704، 6881، 6922، وأخرجه مسند البزار برقم: 3303، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8433، 8696، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8392، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 7238، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12387، 12388، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7413»