❮
❯
حدیث نمبر: 4344
قَالَ إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوا ، وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ ، يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَخَافَةُ وَالْفَقْرُ ، أَلَا وَإِنَّ رَحَى الْإِيمَانِ دَائِرَةٌ ، فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ يَدُورُ ، أَلَا وَإِنَّ السُّلْطَانَ وَالْكِتَابَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ ، أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ إِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ ، قَالُوا : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، حُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ ، وَنُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ ، مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَتِهِ .
ترجمہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (حکمرانوں سے) عطیات اس وقت تک وصول کرتے رہو جب تک وہ محض عطیہ رہیں، لیکن جب وہ تمہارے دین کے سودے کے عوض رشوت بن جائیں تو انہیں ہرگز قبول نہ کرنا؛ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تم انہیں چھوڑ نہیں پاؤ گے کیونکہ (حکام کا) رعب و دبدبہ اور فقر و افلاس کا خوف تمہیں ایسا کرنے سے مانع ہوگا۔ خبردار! اسلام اور ایمان کی چکی گردش میں ہے، پس تم کتاب اللہ کے ساتھ رہو جدھر وہ تمہیں لے چلے؛ آگاہ رہو! عنقریب سیاسی اقتدار اور قرآن کی راہیں جدا ہو جائیں گی، ایسی صورت میں تم قرآن کا دامن ہرگز نہ چھوڑنا۔ سن لو! تم پر ایسے امراء و حکمران مسلط ہوں گے کہ اگر تم ان کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں راہِ راست سے بھٹکا دیں گے اور اگر تم ان کی حکم عدولی کرو گے تو وہ تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم وہی طریقہ اختیار کرنا جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے اصحاب نے اپنایا تھا؛ انہیں لکڑیوں پر لٹکایا گیا (سولی دی گئی) اور آریوں سے ان کے جسم چیر دیے گئے (مگر وہ حق پر ڈٹے رہے)، یقیناً اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری میں موت پا لینا اس کی نافرمانی و معصیت والی زندگی گزارنے سے بدرجہا بہتر ہے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الکبیر‘ (20/90، رقم: 172) اور امام ابونعیم نے ’حلیۃ الاولیاء‘ میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں سوید بن عبدالعزیز نامی راوی ضعیف ہے، جس کی وجہ سے علامہ البانی اور دیگر محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اس کے بعض اجزاء کے شواہد دیگر صحیح احادیث میں ملتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتن / حدیث: 4344
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 717، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9152، 9208، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7571»