المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت کی پیروی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4343
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا ارْتَفَعَتْ وَنَاسٌ عِنْدَ الْحُجُرَاتِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَهْلَ الْحُجُرَاتِ ، سُعِّرَتِ النَّارُ ، وَجَاءَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا .ترجمہ
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ) چاشت کے وقت جب سورج خوب بلند ہو گیا باہر تشریف لائے، اس وقت کچھ لوگ امہات المؤمنین کے حجروں کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے (انہیں مخاطب کر کے) ارشاد فرمایا: ”اے حجروں والو! (جہنم کی) آگ دہکا دی گئی ہے، اور فتنے اندھیری رات کی تہوں کی طرح (پہ در پہ) آ پہنچے ہیں؛ اگر تم ان حقائق سے واقف ہو جاتے جو میں جانتا ہوں تو تم یقیناً روتے بہت زیادہ اور ہنستے بہت ہی کم۔“
اسے امام ابو بکر نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں اسحاق بن سلیمان الرازی، ابو سنان، عمرو بن مرہ اور ابو البختری الطائی شامل ہیں۔