المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ البيان بأن سبب الفساد والفتن تأمير ولاة السوء باب: فساد اور فتنوں کا سبب برے حکمرانوں کو مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4345
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ بَعْدِي أَئِمَّةً ، إِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ كَفَّرُوكُمْ ، وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ ، أَئِمَّةَ الْكُفْرِ وَرُؤُوسَ الضَّلَالَةِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً میرے بعد ایسے ائمہ (حکمران و پیشوا) ہوں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت و اتباع کرو گے تو وہ تمہیں کفر کی راہ پر ڈال دیں گے، اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے؛ وہ کفر کے امام اور گمراہی کے سرغنہ ہوں گے۔“
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں زیاد بن منذر (ابو الجارود) نامی راوی ہے جسے محدثین نے کذاب اور متروک قرار دیا ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سندی لحاظ سے انتہائی ضعیف اور ناقابلِ اعتبار ہے۔