المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت کی پیروی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4342
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَقُومَ الْقَائِمُ فَيَقُولَ : مَنْ يَبِيعُنَا دِينَهُ بِكَفٍّ مِنْ دَرَاهِمَ ؟ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات (یعنی دنیا کی مدت) اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ ایک کھڑا ہونے والا (فتنہ پرور منادی) کھڑا ہو کر یہ صدا نہ لگائے: کون ہے جو مٹھی بھر درہموں کے عوض اپنا دین ہمیں فروخت کرتا ہے؟“
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یونس بن ابی اسحاق مدلس ہیں اور انہوں نے اسے 'عن' سے روایت کیا ہے جس کی وجہ سے سند میں ضعف ہے، البتہ آخری زمانے میں دنیا کی معمولی پونجی کے بدلے دین بیچنے کا مضمون صحیح مسلم سمیت دیگر کتبِ حدیث میں موجود صحیح روایات سے ثابت ہے۔