المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت کی پیروی کے حکم کا بیان۔
( 208 ) تَقَدَّمَتْ مِنْهُ أَحَادِيثُ فِي الْإِيمَانِ .
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : إِنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ حِينَ قُتِلَ عُثْمَانُ وَأَنَا مَحْمُومٌ ، فَرَكِبْتُ فَلَحِقْتُهُ بِالسَّالِحِينَ ، فَإِذَا هُوَ فِي بُسْتَانٍ ، فَدَخَلْتُ فِي الْبُسْتَانِ ، فَإِذَا نَفَرٌ جُلُوسٌ فِي أَقْصَى الْبُسْتَانِ ، قَدْ تَوَضَّأَ وَالْمَاءُ يَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، قَالَ : فَتَلَقَّيْتُهُ ، قَالَ : فَحَمِدْتُ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ كَانَ لَكَ صَاحِبَانِ إِلَيْهِمَا الْمَفْزَعُ ؛ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى ، وَأَنْشُدُكَ اللهَ تَعَالَى وَأَنْشُدُكَ بِالْإِسْلَامِ ، إِنْ كُنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْفِتْنَةِ شَيْئًا إِلَّا حَدَّثْتَنِي بِهِ ، وَإِلَّا اجْتَهَدْتَ رَأْيَكَ ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : عَلَيْكَ بِعِظَمِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ أَوْ يُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ .
4340 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ دِهْقَانٍ بِالسَّالِحِينَ ، فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَكْتُمْنِي ، فَقَالَ : إِنَّا لَا نَكْتُمُ شَيْئًا أَيُّهَا الْفَتَى ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ، وَإِيَّاكَ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّهَا الْفِتْنَةُ وَالضَّلَالَةُ ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ .یسیر بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی طرف نکلے، اس وقت میں (یسیر بن عمرو) بخار کی شدت میں مبتلا تھا، اس کے باوجود میں نے سواری تیار کی اور مقامِ "سالحین" میں انہیں جا لیا، وہ ایک باغ میں تشریف فرما تھے، میں جب باغ کے اندر گیا تو دیکھا کہ کچھ لوگ باغ کے آخری حصے میں بیٹھے ہیں، انہوں نے ابھی وضو کیا تھا اور وضو کا پانی ان کی داڑھی مبارک سے ٹپک رہا تھا، میں ان کے سامنے حاضر ہوا، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر عرض گزار ہوا: آپ کے دو ایسے معتبر ساتھی تھے جن کی طرف کسی بھی مشکل معاملے میں رجوع کیا جاتا تھا، یعنی سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما؛ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اور آپ کو اسلام کی دہائی دیتا ہوں کہ اگر آپ نے اس فتنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تو وہ مجھے ضرور بتائیں، اور اگر کچھ نہیں سنا تو پھر اپنی فہم و فراست سے اجتہاد فرما دیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”تم امتِ محمدیہ ﷺ کے بڑے گروہ یعنی سوادِ اعظم کی پیروی کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ عزوجل امتِ محمدیہ ﷺ کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا، اور اس وقت تک صبر کا دامن تھامے رکھو جب تک کہ کوئی نیک بندہ (موت کے ذریعے دنیا کی تکالیف سے) راحت نہ پا لے یا کسی بدکار شخص کی موت سے لوگوں کو سکون و راحت نہ مل جائے۔“
یسیر بن عمرو رحمہ اللہ ہی سے ایک دوسری سند میں مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تو میری ملاقات ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مقامِ سالحین میں ایک زمیندار کے گھر میں ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے وہ بات بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور مجھ سے اسے ہرگز مخفی نہ رکھیں، انہوں نے فرمایا: ”اے نوجوان! ہم کوئی بات نہیں چھپاتے، تم پر جماعت سے وابستگی لازم ہے اور تفرقہ بازی سے بچو کیونکہ یہی اصل فتنہ اور سراسر گمراہی ہے، اور یقیناً اللہ تعالیٰ امتِ محمدیہ ﷺ کو کبھی بھی گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا۔“