المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ بيان بَدْءِ الفتنة باب: فتنے کے آغاز کا بیان۔
حدیث نمبر: 4339
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَجِدُكَ قَائِمًا عِنْدَ رَبِّكَ ، مُحْمَارَّةً وَجْنَتَاكَ ، مُسْتَحْيِيًا مِنْ رَبِّكَ مِمَّا أَحْدَثَتْ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (بارگاہِ رسالت میں) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بے شک ہم (سابقہ کتب میں) آپ کا وصف یہ پاتے ہیں کہ آپ (قیامت کے دن) اپنے رب کے حضور اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ آپ کے رخسار مبارک (فرطِ جذبات و حیا سے) سرخ ہو رہے ہوں گے، اور آپ اپنی امت کے ان (برے) کاموں کی وجہ سے جو انہوں نے آپ کے بعد ایجاد کیے ہوں گے، اپنے رب سے نہایت حیا محسوس کر رہے ہوں گے۔“
یہ سند حسن ہے۔