المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ بيان بَدْءِ الفتنة باب: فتنے کے آغاز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَتَوَجَّهْنَا نَحْوَ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ ، فَأَتَيْتُهُ بِطَهُورٍ ، فَلَمَّا جَاءَ وَضَعْتُهُ لَهُ ، فَجَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَعِّدُ بَصَرَهُ فِيَّ وَيُصَوِّبُهُ ، قَالَ : وَيْحَكَ بَعْدِي فَبَكَيْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنِّي لَبَاقٍ بَعْدَكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَإِذَا رَأَيْتَ الْبِنَاءَ عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ فَالْحَقْ بِالْعَرَبِ أَرْضِ قُضَاعَةَ ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي يَوْمٌ قَابَ قَوْسٍ أَوْ قَوْسَيْنِ ، أَوْ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں ایک مرتبہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ باہر نکلا، پس ہم بنو فلاں کے ایک باغ کی جانب روانہ ہوئے، میں آپ ﷺ کی خدمت میں وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا، جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے وہ پانی آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا، تب رسول اللہ ﷺ مجھ پر اپنی نگاہیں اوپر نیچے ڈالنے لگے (یعنی مجھے بڑے غور اور ہمدردی سے دیکھنے لگے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تمہارے حال پر افسوس ہے!“ یہ سن کر میں رونے لگا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے بعد زندہ رہوں گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، چنانچہ جب تم دیکھو کہ جبلِ سلع پر عمارتیں بلند ہو گئی ہیں تو تم عربوں کے علاقے، یعنی قضاعہ کی سرزمین کی طرف نکل جانا، کیونکہ عنقریب ایک ایسا دن آئے گا جو کمان کی لمبائی یا دو کمانوں کے برابر، یا ایک نیزے یا دو نیزوں کی دوری کے بقدر قریب ہو گا۔“
اس حدیث کی سند میں طلحہ بن عمرو بن عثمان الحضرمی متروک راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔