المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ بيان بَدْءِ الفتنة باب: فتنے کے آغاز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ الْعَتَوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُهَنَّدٌ الْقَيْسِيُّ ، وَكَانَ ثِقَةً ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْ فِي نُبُوَّةٍ وَرَحْمَةٍ ، وَسَتَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ ، وَيَكُونُ كَذَا وَكَذَا ، وَيَكُونُ مُلْكًا عَضُوضًا ، يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَيَلْبَسُونَ الْحَرِيرَ ، وَمَعَ ذَلِكَ يُنْصَرُونَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً تم اس وقت نبوت اور رحمت کے عہد میں ہو، پھر عنقریب خلافت اور رحمت کا دور آئے گا، پھر اس کے بعد فلاں فلاں احوال و کیفیات ہوں گی، یہاں تک کہ ایسی ملوکیت کا دور ہوگا جو رعایا کو کاٹ کھانے والی ہوگی، وہ لوگ شراب پییں گے اور ریشمی لباس زیب تن کریں گے، اور اس کے باوجود قیامت قائم ہونے تک ان کی نصرت و مدد کی جاتی رہے گی۔“
اس حدیث کے راویوں میں مہند القیسی ثقہ ہیں، یہ روایت خلافتِ راشدہ کے بعد ملوکیت کے آغاز اور اس میں پیدا ہونے والی اخلاقی برائیوں کے باوجود امت کی مجموعی نصرت و بقا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔