❮
❯
حدیث نمبر: 4319
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ شَيْئًا تَجْلِسُ عَلَيْهِ يَدْفَعُ عَنْكَ الْغُبَارَ وَيَرُدُّ عَنْكَ الْخَصْمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللهِ ، لَأَدَعَنَّهُمْ يُنَازِعُونِي رِدَائِي ، وَيَطَؤُونَ عَقِبِي ، وَيَغْشَانِي غُبَارُهُمْ ، حَتَّى يَكُونَ اللهُ تَعَالَى هُوَ الَّذِي يُرِيحُنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : فَعَلِمْتُ أَنَّ بَقَاءَهُ فِينَا قَلِيلٌ ، قَالَ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ : وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَلْسِنَتَهُمْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يَقُولُونَ : قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ عَهْدٌ أَوْ عَقْدٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى قَطَعَ الْحِبَالَ وَوَصَلَ ، وَحَارَبَ وَسَالَمَ ، وَنَكَحَ النِّسَاءَ وَطَلَّقَ ، وَتَرَكَكُمْ عَلَى مَحَجَّةٍ بَيِّنَةٍ ، وَطَرِيقٍ نَاهِجَةٍ ، وَلَئِنْ كَانَ كَمَا قَالَ عُمَرُ لَمْ يَعْجِزِ اللهُ تَعَالَى أَنْ يَحْثُوَ عَنْهُ فَيُخْرِجَهُ لَنَا ، فَخَلِّ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ فَلْنَدْفِنْهُ فَإِنَّهُ يَأْسُنُ كَمَا يَأْسُنُ النَّاسُ .
قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ .
ترجمہ

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں ضرور یہ جان کر رہوں گا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان مزید کتنا عرصہ قیام فرمائیں گے، چنانچہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کاش آپ (بیٹھنے کے لیے) کوئی ایسی چیز بنا لیتے جس پر آپ تشریف فرما ہوتے، وہ آپ کو گرد و غبار سے محفوظ رکھتی اور لوگوں کے ہجوم و تکرار کو آپ سے دور رکھتی“، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بخدا! میں انہیں اسی حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میری چادر کے متعلق مجھ سے کھینچ تان کر رہے ہوں گے، میرے نقشِ قدم کو پامال کر رہے ہوں گے اور ان کا غبار مجھ پر پڑ رہا ہوگا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود ہی مجھے ان سے راحت عطا فرما دے“۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تب میں سمجھ گیا کہ ہمارے درمیان آپ ﷺ کی بقا کا وقت اب بہت مختصر رہ گیا ہے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (شدتِ جذبات میں) کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہیں گے یہاں تک کہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں“، اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم میں سے کسی کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس بارے میں کوئی عہد یا وصیت ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یقیناً رسول اللہ ﷺ اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک آپ نے (کفر کے) تمام تعلقات منقطع نہ کر دیے اور (حق کے) رشتوں کو جوڑ نہ دیا، آپ ﷺ نے جنگیں بھی لڑیں اور صلح بھی کی، نکاح بھی کیے اور طلاق بھی دی، اور آپ ﷺ نے تمہیں ایک نہایت واضح روشن شاہراہ اور کھلے راستے پر چھوڑا ہے؛ اور اگر صورتحال ویسی ہی ہے جیسا کہ عمر کہہ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ آپ ﷺ کے اوپر سے مٹی ہٹا کر انہیں ہمارے پاس دوبارہ نکال لائے، لہٰذا تم ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم انہیں دفن کر سکیں، کیونکہ آپ ﷺ کے جسدِ مبارک پر بھی (وفات کے بعد) ویسے ہی بشری اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں جیسے دیگر انسانوں پر ہوتے ہیں“۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں: اسے امام طبرانی نے ابن عیینہ کی حدیث سے، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4319
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»