❮
❯
حدیث نمبر: 4318
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : بَعَثَ النَّجَاشِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَأَقَرُّوا وَأَسْلَمُوا ، وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِلَى قَوْلِهِ : الشَّاهِدِينَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَتْهُ وَفَاتُهُ ، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ .
ترجمہ

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نجاشی (شاہِ حبشہ) نے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں اپنے ساتھیوں پر مشتمل ایک وفد بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے سامنے قرآنِ کریم کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر انہوں نے حق ہونے کا اعتراف کیا اور اسلام قبول کر لیا، اور انہی کے حق میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ * وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ [سورة المائدة: 82-83]، پھر وہ وفد نجاشی کی طرف واپس لوٹ گیا تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کر لیا، بعد ازاں جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی وفات کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا فرمائی جس طرح میت پر نماز پڑھی جاتی ہے۔
اس کی تخریج امام حارث نے اپنی مسند میں کی ہے اور یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4318
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3595 / 4»