المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وفاة سيدنا رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی وفات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً قَبْلَ وَفَاتِهِ ، وَهِيَ آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا بِالْمَدِينَةِ ، حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ تَعَالَى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي ، وَدَقَّ عَظْمِي ، وَأُنْهِكَ جِسْمِي ، وَنُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي ، وَاقْتَرَبَ أَجِلِي ، وَاشْتَقْتُ إِلَى رَبِّي ، أَلَا وَإِنَّ هَذَا آخِرُ الْعَهْدِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ، فَمَا دُمْتُ حَيًّا فَقَدْ تَرَوْنِي ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے قبل ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، اور یہ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کا وہ آخری خطبہ تھا جو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے جا ملنے تک دیا، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں (یہ الفاظ بھی) ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً اب میری عمر رسیدہ ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، میرا جسم نحیف و نڈھال ہو چکا ہے، مجھے میری وفات کی اطلاع دے دی گئی ہے، میری زندگی کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ پہنچا ہے اور میں اپنے رب سے ملاقات کا مشتاق ہوں۔ آگاہ رہو! میرے اور تمہارے درمیان (دنیاوی ملاقات کا) یہ آخری عہد ہے، پس جب تک میں زندہ ہوں تم مجھے دیکھ رہے ہو، لیکن جب میں وفات پا جاؤں تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان و کارساز) ہے۔“ اور (آخر میں فرمایا): «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔“
اس روایت کی سند میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے کذاب و وضاع راوی موجود ہیں، جس کی بنا پر محدثین کے نزدیک یہ روایت سخت ضعیف اور من گھڑت (موضوع) ہے۔