المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة حنين باب: غزوہ حنین کا بیان۔
وَبِهِ إِلَى يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : فَذَكَرَ انْكِشَافَةً انْكَشَفَهَا الْمُسْلِمُونَ ، فَتَبِعَهُمُ الْكُفَّارُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْضَةً مِنَ الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَرَمَى بِهَا فِي وُجُوهِهِمْ ، فَقَالَ : ارْجِعُوا ، شَاهَتِ الْوُجُوهُ ، قَالَ : فَمَا مِنْ أَحَدٍ يَلْقَى أَخَاهُ إِلَّا وَهُوَ يَشْكُو الْقَذَى فِي عَيْنَيْهِ .سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (دورانِ جنگ) مسلمانوں کی ایک ایسی پسپائی کا ذکر کیا جب مسلمان پیچھے ہٹے اور کفار ان کے تعاقب میں لپکے، تب رسول اللہ ﷺ نے زمین سے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے مشرکین کی طرف رخ کر کے ان کے چہروں پر دے مارا اور فرمایا: «ارْجِعُوا ، شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”واپس الٹے پاؤں لوٹ جاؤ، یہ چہرے بگڑ جائیں“، راوی کہتے ہیں کہ پھر (اس معجزاتی فعل کا یہ اثر ہوا کہ دشمن کی صفوں میں) جو کوئی بھی اپنے دوسرے ساتھی سے ملتا تو وہ اپنی آنکھوں میں مٹی کے ذرات اور کرکراہٹ کی شکایت کر رہا ہوتا تھا۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد نے مسند میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے۔