المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة حنين باب: غزوہ حنین کا بیان۔
حدیث نمبر: 4310
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَامِرٍ السُّوَائِيَّ ، قَالَ : وَكَانَ شَهِدَ حُنَيْنًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ أَسْلَمَ ، فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ عَنِ الرُّعْبِ الَّذِي أَلْقَاهُ اللهُ تَعَالَى فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَيْفَ كَانَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَأْخُذُ الْحَصَاةَ فَنَرْمِيهَا فِي الطَّسْتِ فِيهِ الْمَاءُ فَيَطِنُّ ، قَالَ : كُنَّا نَجِدُ فِي أَجْوَافِنَا مِثْلَ هَذَا .ترجمہ
سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ مشرکین کی جانب سے غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور بعد ازاں اسلام لائے؛ ہم ان سے اس رعب و ہیبت کے بارے میں دریافت کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے غزوہ حنین کے دن مشرکین کے دلوں میں ڈال دی تھی کہ اس کی کیا کیفیت تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ ”ہم ایک کنکری اٹھا کر اسے پانی سے بھرے ہوئے تشت (بڑے پیالے) میں پھینکتے تو وہ بج اٹھتا تھا،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم اپنے پیٹ کے اندر بھی بالکل اسی طرح کی گونج اور تھرتھراہٹ محسوس کرتے تھے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اسے امام احمد اور امام بزار نے روایت کیا ہے۔