المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة حنين باب: غزوہ حنین کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَاحِبُ السِّقَايَةِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُومُوا لَنَا حَلْبَ شَاةٍ أَنْ كَشَفْنَاهُمْ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَسُوقُهُمْ فِي أَدْبَارِهِمْ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى صَاحِبِ الْبَغْلَةِ الْبَيْضَاءِ أَوِ الشَّهْبَاءِ ، فَنَلْقَى عِنْدَهَا رِجَالًا بِيضَ الْوُجُوهِ ، فَقَالَ : شَاهَتِ الْوُجُوهُ ارْجِعُوا ، فَانْهَزَمْنَا مِنْ قَوْلِهِمْ ، فَرَكِبُوا أَكْتَافَنَا ، فَكَانَتْ إِيَّاهَا .غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مشرکین کی جانب سے) موجود ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”جب ہمارا اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کا مقابلہ ہوا تو وہ ہمارے سامنے اتنی دیر بھی نہ ٹھہر سکے جتنی دیر میں ایک بکری کا دودھ نکالا جاتا ہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں پسپا کر دیا؛ ابھی ہم ان کے تعاقب میں انہیں ہانک رہے تھے کہ ہم سفید یا خاکستری مائل خچر والے (رسول اللہ ﷺ) کے پاس پہنچ گئے، وہاں ہماری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جن کے چہرے نہایت روشن و تاباں تھے، تب آپ ﷺ نے فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”یہ چہرے بگڑ جائیں، واپس مڑ جاؤ“، پس ان کے اس قول کی ہیبت سے ہم ہزیمت کا شکار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور وہ ہمارے کندھوں پر سوار ہو گئے (یعنی شدت سے ہمارا تعاقب کرنے لگے)، پس وہی فیصلہ کن شکست تھی۔“
اس حدیث کی سند میں موجود تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت صحیح ہے۔