المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة حنين باب: غزوہ حنین کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ انْكَشَفَ عَنْهُ النَّاسُ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ يُقَالُ لَهُ : زَيْدٌ ، آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ يَا زَيْدُ ، ادْعُ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّ لِلهِ تَعَالَى فِي أَعْنَاقِهِمْ بَيْعَةً ، فَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : أَقْبَلَ مِنْهُمْ أَلْفٌ ، قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ وَكَسَرُوهَا ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے منتشر ہو کر پیچھے ہٹ گئے، تو آپ ﷺ کے ہمراہ صرف ایک ہی شخص ثابت قدم رہا جنہیں زید کہا جاتا تھا اور وہ آپ ﷺ کے سفید و سیاہ رنگت والے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«وَيْحَكَ يَا زَيْدُ» ”اے زید! تمہارا بھلا ہو“، مہاجرین کو پکارو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ان کی گردنوں پر بیعت کی ذمہ داری (کا عہد) موجود ہے“، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (پکار سنتے ہی) ان میں سے ایک ہزار لوگ اس حال میں تیزی سے پلٹے کہ انہوں نے اپنی تلواروں کے میان اتار کر پھینک دیے اور انہیں توڑ ڈالا تھا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و نصرت سے سرفراز فرما دیا۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابویعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔