المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة خيبر باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ : مَنْ كَانَ مُضْعِفًا أَوْ مُصْعِبًا فَلْيَرْجِعْ وَأَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى بِذَلِكَ ، فَرَجَعَ نَاسٌ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ ، فَمَرَّ مِنَ اللَّيْلِ عَلَى سَوَادٍ ، فَنَفَرَ بِهِ فَصَرَعَهُ فَوَقَصَهُ ، فَلَمَّا جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا شَأْنُ صَاحِبِكُمْ ؟ قَالُوا : كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا كَذَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ مَا كُنْتَ أَذَّنْتَ فِي النَّاسِ : مَنْ كَانَ مُضْعِفًا أَوْ مُصْعِبًا فَلْيَرْجِعْ ؟ قَالَ : بَلَى قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ .
بِشْرٌ ضَعِيفٌ جِدًّا .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی سواری ناتواں ہو یا سرکش ہو، وہ واپس چلا جائے“ اور آپ ﷺ نے ایک پکارنے والے کو حکم دیا تو اس نے لوگوں میں یہی اعلان کر دیا، جس پر کچھ لوگ واپس لوٹ گئے، ان لوگوں میں ایک شخص ایک ایسے جوان اونٹ پر سوار تھا جو سرکش اور تند خو تھا، رات کے وقت وہ کسی سیاہ سائے یا چیز کے پاس سے گزرا تو اونٹ اسے دیکھ کر بدک گیا اور اسے زمین پر پٹخ دیا جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی، جب اسے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہارے اس ساتھی کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اس کے ساتھ ایسا ایسا واقعہ پیش آیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کیا تم نے لوگوں میں یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ جس کی سواری کمزور ہو یا سرکش ہو وہ واپس چلا جائے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں (میں نے اعلان کر دیا تھا)، تو آپ ﷺ نے اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار فرما دیا۔
اس کی سند میں موجود راوی بشر بن نمیر انتہائی ضعیف ہے۔