المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
قِصَّةُ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ باب: ابن ابی الحقیق کے قتل کا واقعہ۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَبِي أُمِّي ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا قَتَادَةَ ، وَحَلِيفًا لَهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَتِيكٍ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِنَقْتُلَهُ ، فَخَرَجْنَا لَيْلًا ، فَتَتَبَّعْنَا أَبْوَابَهُمْ ، فَعَلَّقْنَاهَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ ، ثُمَّ جَمَعْنَا الْمَفَاتِيحَ ، فَصَعِدَ الْقَوْمُ فِي النَّخْلِ ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي دَرَجَةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عَبْدَ اللهِ ، أَنَّى لَكَ بِهَذِهِ الْبَلْدَةِ ؟ قُومِي فَافْتَحِي لَهُ ، فَإِنَّ الْكَرِيمَ لَا يَرُدُّ عَنْ بَابِهِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، فَقَامَتْ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ : دُونَكَ ، فَشَهَرَ عَلَيْهِمُ السَّيْفَ ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَصِيحَ فَأَشْهَرَ عَلَيْهَا السَّيْفَ ، فَأَدْرَكَهُ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَأَكَفَّ .
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، فَوَقَفْتُ أَنْظُرُ إِلَى شِدَّةِ بَيَاضِهِ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ وِسَادَةً فَاسْتَتَرَ بِهَا ، فَذَهَبْتُ أَرْفَعُ السَّيْفَ لِأَضْرِبَهُ ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ مِنْ قِصَرِ الْبَيْتِ ، فَوَخَزْتُهُ وَخْزًا ، ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَقَالَ صَاحِبِي : فَعَلْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَخَلَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَانْحَدَرْنَا مِنَ الدَّرَجَةِ ، فَسَقَطَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي الدَّرَجَةِ ، فَقَالَ : وَارِجْلَاهُ ، كُسِرَتْ رِجْلِي ، فَقُلْتُ : لَيْسَ بِرِجْلِكَ بَأْسٌ ، وَوَضَعْتُ قَوْسِي فَاحْتَمَلْتُهُ ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ قَصِيرًا ضَئِيلًا ، فَأَنْزَلْتُهُ فَإِذَا رِجْلُهُ لَا بَأْسَ بِهَا ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لَحِقْنَا أَصْحَابَنَا ، وَصَاحَتِ الْمَرْأَةُ : وَابَيَاتَاهُ ، فَيَثُورُ أَهْلُ خَيْبَرَ لِقَتْلِهِ ، فَذَكَرْتُ مَوْضِعَ قَوْسِي ، فَقُلْتُ : لَا أَرْجِعُ حَتَّى آخُذَ قَوْسِي ، فَرَجَعْتُ فَإِذَا أَهْلُ خَيْبَرَ قَدْ ثَوَّرُوا ، وَإِذَا مَا لَهُمْ كَلَامٌ إِلَّا مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ ؟ فَجَعَلْتُ لَا أَنْظُرُ فِي وَجْهِ إِنْسَانٍ وَلَا يَنْظُرُ فِي وَجْهِي إِلَّا قُلْتُ كَمَا يَقُولُ : مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ ؟ حَتَّى جِئْتُ الدَّرَجَةَ ، فَصَعِدْتُ مَعَ النَّاسِ ، فَأَخَذْتُ قَوْسِي ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِأَصْحَابِي ، فَكُنَّا نَسِيرُ بِاللَّيْلِ وَنَكْمُنُ بِالنَّهَارِ ، فَإِذَا كَمَنَّا النَّهَارَ أَقْعَدْنَا نَاطُورًا يَنْظُرُنَا حَتَّى إِذَا اقْتَرَبْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَكُنَّا بِالْبَيْدَاءِ كُنْتُ أَنَا نَاطِرَهُمْ ، ثُمَّ إِنِّي أَلَحْتُ لَهُمْ بِثَوْبِي فَانْحَدَرُوا ، فَخَرَجُوا جَمْزًا ، وَانْحَدَرْتُ أَنَا فِي آثَارِهِمْ ، فَأَدْرَكْتُهُمْ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لِي أَصْحَابِي : هَلْ رَأَيْتَ شَيْئًا ؟ فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ مَا أَدْرَكَكُمْ مِنَ الْعَيَاءِ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَحْمِلَكُمُ الْفَزَعُ .
وَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ ، فَقُلْنَا : أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : أَقَتَلْتُمُوهُ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، فَدَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ الَّذِي قُتِلَ بِهِ ، فَقَالَ : هَذَا طَعَامُهُ فِي ظُبَاتِ السَّيْفِ .سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، ابوقتاوہ، ان کے ایک انصاری حلیف اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیے بھیجا۔ ہم رات کے وقت روانہ ہوئے، وہاں پہنچ کر ان کے گھروں کے دروازوں کا جائزہ لیا اور انہیں باہر سے بند کر دیا، پھر ہم نے چابیاں جمع کیں۔ کچھ لوگ کھجور کے درختوں پر چڑھ گئے جبکہ میں اور عبداللہ بن عتیک، ابن ابی الحقیق کی سیڑھیوں تک پہنچ گئے۔ عبداللہ بن عتیک نے بات کی تو ابن ابی الحقیق کہنے لگا: "اے عبداللہ! تیری ماں تجھے روئے، تو اس بستی میں کہاں سے آ گیا؟" پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا: "اٹھو اور اس کے لیے دروازہ کھولو کیونکہ شریف آدمی اس وقت اپنے دروازے سے کسی کو نہیں لوٹاتا۔" وہ عورت اٹھی تو میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا: "سنبھالو اسے۔" انہوں نے تلوار سونت لی۔ اس کی بیوی نے چیخ مارنا چاہی تو انہوں نے اس پر بھی تلوار تان لی، مگر فوراً ہی انہیں رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان یاد آگیا جس میں آپ ﷺ نے "عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا" چنانچہ وہ رک گئے۔ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بالا خانے میں داخل ہوا، میں رات کی تاریکی میں اس کی سفیدی کی شدت کو دیکھ رہا تھا، جب اس نے مجھے دیکھا تو تکیہ لے کر اس کے پیچھے چھپ گیا۔ میں نے تلوار چلا کر اسے مارنا چاہا مگر چھت نیچی ہونے کی وجہ سے وار نہ کر سکا، چنانچہ میں نے تلوار کی نوک اسے پیوست کر دی، پھر میں باہر آگیا۔ میرے ساتھی نے پوچھا: "کیا تم نے کام کر دیا؟" میں نے کہا: "جی ہاں۔" پھر وہ اندر گیا اور اسے دیکھا، پھر ہم وہاں سے نکل کر سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے تو عبداللہ بن عتیک سیڑھیوں سے گر پڑے اور کہنے لگے: "ہائے میری ٹانگ! میری ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔" میں نے کہا: "تمہاری ٹانگ کو کچھ نہیں ہوا" پھر میں نے اپنی کمان رکھی اور انہیں اٹھا لیا، عبداللہ پست قد اور دبلے پتلے آدمی تھے۔ جب میں نے انہیں نیچے اتارا تو ان کی ٹانگ بالکل ٹھیک تھی۔ پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں سے جا ملے، ادھر اس عورت نے چیخ چیخ کر دہائی دینی شروع کر دی کہ "ہائے میرے گھر والے!" جس پر خیبر والے اس کے قتل کی خبر سن کر مشتعل ہو کر نکل پڑے۔ مجھے اپنی کمان کا خیال آیا تو میں نے کہا: "میں اپنی کمان لیے بغیر واپس نہیں جاؤں گا۔" میں واپس گیا تو دیکھا کہ اہل خیبر بپھرے ہوئے ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں اور ان کی زبانوں پر ایک ہی بات تھی کہ "ابن ابی الحقیق کو کس نے قتل کیا؟" میں جس کسی کے سامنے سے گزرتا اور وہ مجھے دیکھتا تو میں بھی وہی کہتا جو وہ کہہ رہے تھے کہ "ابن ابی الحقیق کو کس نے قتل کیا؟" یہاں تک کہ میں سیڑھیوں تک پہنچا، لوگوں کے ساتھ اوپر چڑھا اور اپنی کمان اٹھا لی، پھر اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔ ہم رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپ جاتے۔ جب ہم دن کو چھپتے تو ایک نگہبان بٹھا دیتے جو ہماری پہرے داری کرتا۔ جب ہم مدینہ کے قریب "بیداء" نامی مقام پر پہنچے تو میں ان کا پہرے دار بنا، پھر میں نے اپنے کپڑے سے انہیں اشارہ کیا تو وہ نیچے اتر آئے اور تیزی سے دوڑنے لگے، میں بھی ان کے پیچھے لپکا یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے پوچھا: "کیا تم نے کچھ دیکھا تھا؟" میں نے کہا: "نہیں، لیکن میں نے دیکھا کہ تم لوگ تھک چکے ہو، اس لیے میں نے چاہا کہ کسی خوف کی وجہ سے تم میں تیزی پیدا ہو جائے۔" ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہمیں دیکھ کر فرمایا: «أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ» ”یہ چہرے کامیاب و بامراد ہو گئے۔“ ہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ کا چہرہ انور بھی کامیاب و بامراد ہو۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ ہم نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اسے قتل کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے پھل پر لگی گندگی دیکھ کر فرمایا: ”تلوار کی دھار پر یہ اس کے پیٹ کے کھانے کے اثرات ہیں۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف راوی ہے، تاہم قصہ قتلِ ابن ابی الحقیق صحیح بخاری و صحیح مسلم میں دیگر مستند اسانید سے ثابت ہے۔