❮
❯
حدیث نمبر: 4293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ الْمُطَاعِ الْأَسْلَمِيَّةَ ، وَكَانَتْ قَدْ شَهِدَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَسْلَمَ حِينَ شَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِدَّةِ الْحَالِ ، فَنَدَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَنَهَضُوا ، فَرَأَيْتُ أَسْلَمَ أَوَّلَ مَنِ انْتَهَى إِلَى الْحِصْنِ ، فَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، حَتَّى فَتَحَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْنَا ، وَهُوَ حِصْنُ الصَّعْبِ بْنِ مُعَاذٍ بِالنَّطَاةِ .
ترجمہ

سیدہ امِ مطاع اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ غزوۂ خیبر میں شرکت کی تھی، وہ فرماتی ہیں کہ ”میں نے قبیلہ اسلم کے لوگوں کو دیکھا جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اپنی شدید ابتر حالت اور فقر و فاقہ کی شکایت کی، تو نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو (پیش قدمی کے لیے) ابھارا اور ترغیب دی، جس پر سب لوگ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ اس قلعے تک پہنچنے والوں میں سب سے پہلے قبیلہ اسلم کے لوگ ہی تھے، چنانچہ اس دن ابھی سورج بھی غروب نہیں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ قلعہ ہمارے لیے فتح فرما دیا، اور وہ مقامِ نطاہ میں واقع صَعْب بن معاذ کا قلعہ تھا۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر الواقدی راوی ہیں جنہیں اکثر محدثین نے روایتِ حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے، تاہم سیرت و مغازی کے واقعات میں ان کی مرویات کو اہمیت حاصل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4293
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»