المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ الحديبية باب: صلحِ حدیبیہ کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالسُّقْيَا قَالَ مُعَاذٌ : مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا ؟ قَالَ : فَخَرَجْتُ مَعَ فِتْيَانٍ مَعِي حَتَّى أَتَيْنَا الْأُثَايَةَ ، فَأَسْقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ الْمَاءَ ، قَالَ : فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُ رَاحِلَتَهُ فَأَنَخْتُهَا ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صلح حدیبیہ والے سال رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم مقامِ سُقیا پہنچے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پکار کر پوچھا: ”کون ہے جو ہمارے مشکیزوں میں پانی بھر کر لائے گا؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں چند نوجوانوں کے ہمراہ روانہ ہوا یہاں تک کہ ہم مقامِ اُثایہ پہنچے، وہاں ہم نے جانوروں کو سیراب کیا اور اپنے برتنوں میں بھی پانی بھرا، وہ کہتے ہیں کہ جب رات کا کافی حصہ بیت گیا اور اندھیرا چھا گیا تو اچانک ایک شخص نظر آیا جس کا اونٹ پانی کے لیے اس سے تکرار و کشمکش کر رہا تھا، غور کیا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے، چنانچہ میں نے آپ ﷺ کی سواری کو تھاما اور اسے بٹھا دیا، پھر آپ ﷺ امامت کے لیے آگے بڑھے اور نمازِ عشاء پڑھائی جبکہ میں آپ ﷺ کی دائیں جانب کھڑا ہو گیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے تیرہ رکعات نماز ادا فرمائیں۔
اس کی سند حسن ہے۔