❮
❯
حدیث نمبر: 4289
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ : إِنَّ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ لِقَوْمِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ : أَيْ قَوْمِ ، قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، فَابْعَثُونِي إِلَى مُحَمَّدٍ فَأُكَلِّمَهُ ، فَأَتَاهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَاكٍ فِي السِّلَاحِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : كُفَّ يَدَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَيْكَ ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ هُوَ ؟ وَاللهِ إِنِّي لَفِي غَدْرَتِكَ مَا خَرَجْتُ مِنْهَا بَعْدُ ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ ، إِنِّي رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ قَطُّ ، مَا هُوَ مَلِكٌ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الْهَدْيَ مَعْكُوفًا ، وَمَا أَرَاكُمْ إِلَّا سَتُصِيبُكُمْ قَارِعَةٌ ، فَانْصَرَفَ هُوَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ ، فَصَعِدَ سُورَ الطَّائِفِ ، فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ صَاحِبِ يَاسِينَ .
هَذَا مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ ، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ دُونَ مَا فِي آخِرِهِ ، وَالَّذِي فِي آخِرِ هَذَا خَطَأٌ ، إِنَّمَا رُمِيَ بِالسَّهْمِ عَقِبَ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بَعْدَ أَنْ رَحَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ ، فَجَاءَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَأَسْلَمَ ، وَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ، ثُمَّ أَسْلَمُوا بَعْدُ .
ترجمہ

علی بن زید بن جدعان سے روایت ہے کہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صلحِ حدیبیہ کے زمانے میں اپنی قوم سے کہا: ”اے میری قوم! میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو دیکھا اور ان سے گفتگو کی ہے، لہٰذا تم مجھے محمد (ﷺ) کے پاس بھیجو تاکہ میں ان سے بات چیت کروں۔“ چنانچہ وہ مقامِ حدیبیہ پر آپ ﷺ کے پاس آئے اور نبی کریم ﷺ سے گفتگو کرنے لگے، اس دوران وہ (عرب کی سابقہ عادت کے مطابق) نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرف بار بار ہاتھ بڑھاتے تھے، جبکہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہتھیاروں سے لیس اللہ کے رسول ﷺ کے سرہانے کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (سختی سے) ان سے کہا: ”اپنا ہاتھ پیچھے ہٹاؤ، اس سے پہلے کہ یہ ہاتھ تمہاری طرف سلامت واپس نہ پہنچے۔“ عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور (انہیں پہچان کر) کہا: ”کیا یہ تم ہو؟ اللہ کی قسم! میں تو ابھی تک تمہاری اس غداری (کے مالی وبال) کو بھگت رہا ہوں جو تم نے (زمانہ جاہلیت میں) کی تھی۔“ پھر عروہ اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے اور کہنے لگے: ”اے میری قوم! میں نے بادشاہوں کو دیکھا اور ان سے کلام کیا ہے، لیکن اللہ کی قسم! میں نے کبھی محمد (ﷺ) جیسا (باوقار اور محبوب) کوئی نہیں دیکھا، وہ روایتی بادشاہ نہیں ہیں۔ میں نے قربانی کے جانوروں کو (راستے میں) رکا ہوا پایا ہے، اور میرا گمان یہی ہے کہ تم پر عنقریب کوئی بڑی آفت نازل ہوگی۔“ چنانچہ وہ اور ان کی اتباع کرنے والے وہاں سے لوٹ گئے، پھر وہ طائف کی فصیل پر چڑھے اور (علانیہ) گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ان کی قوم کے ایک شخص نے انہیں تیر مارا جس سے وہ شہید ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ صَاحِبِ يَاسِينَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں مردِ حق 'صاحبِ یٰسین' جیسا شخص پیدا فرمایا۔“
یہ روایت مرسل یا معضل ہے، اور اس کا بنیادی واقعہ صحیح بخاری میں بھی سیدنا مسور اور سیدنا مروان رضی اللہ عنہما کی حدیث سے مروی ہے، البتہ یہ آخری حصہ وہاں موجود نہیں ہے؛ اور اس روایت کے آخر میں جو تفصیل مذکور ہے وہ (تاریخی ترتیب کے لحاظ سے) خطا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انہیں تیر غزوہ طائف کے بعد مارا گیا تھا، جب نبی کریم ﷺ وہاں سے واپس تشریف لے جا چکے تھے، تب عروہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے اور اپنی قوم کی طرف دعوت لے کر واپس پلٹے تو انہوں نے انہیں شہید کر دیا، پھر اس کے بعد وہ پوری قوم مسلمان ہوئی تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4289
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ ، وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ دُونَ مَا فِي آخِرِهِ ، وَالَّذِي فِي آخِرِ هَذَا خَطَأٌ ، إِنَّمَا رُمِيَ بِالسَّهْمِ عَقِبَ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بَعْدَ أَنْ رَحَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ ، فَجَاءَ إِلَيْهِ… »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16053، 16054، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4594»