المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ الحديبية باب: صلحِ حدیبیہ کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ قَائِمًا عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ ، وَهُوَ مُتَلَثِّمٌ ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ ، يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ ، يَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُهُ ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ يَدُكَ ، وَالْمُغِيرَةُ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا ، فَقَالَ عُرْوَةُ : مَنْ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ قَالَ : أَجَلْ يَا غُدَرُ ، مَا غَسَلْتُ رَأْسِي مِنْ غَدْرَتِكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ فِي نِهَايَةِ الصِّحَّةِ ، وَهُوَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ مِنْ طَرِيقِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ ، وَفِيهِ إِرْسَالٌ ، وَهَذَا أَحْسَنُ اتِّصَالًا ، فَلِهَذَا اسْتَدْرَكْتُهُ .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے پاس تلوار تھامے پہرہ دے رہے تھے اور انہوں نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال رکھا تھا، اسی دوران عروہ بن مسعود ثقفی رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے (عادت کے مطابق) آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (انہیں سختی سے ٹوکتے ہوئے) کہا: ”تم اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لو، ورنہ تمہارا ہاتھ (کاٹ دیا جائے گا اور) تمہاری طرف سلامت واپس نہیں آئے گا“، اس وقت سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار لٹکائے ہوئے تھے۔ عروہ نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کون ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ ہے“۔ عروہ نے (غصے میں) کہا: ”ہاں اے غدار! کیا میں نے ابھی تک تمہاری غداری (کے وبال) سے اپنا سر دھویا ہے؟ (یعنی تمہاری غداری کا خمیازہ میں اب تک بھگت رہا ہوں)۔“
یہ سند صحت کی انتہا پر ہے، اور یہ روایت صحیح بخاری میں امام زہری کے طریق سے عروہ (بن زبیر) سے، وہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ سے قصہ حدیبیہ اور عمرۃ القضاء کی طویل حدیث میں مروی ہے، جس میں ارسال (انقطاع) ہے، جبکہ یہ سند اتصال کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور مستند ہے، اسی لیے میں نے اس کا استدراک کیا ہے۔