❮
❯
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : مَنْ كَاتِبُ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ ؟ فَضَحِكَ وَقَالَ : هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَوْ سَأَلْتَ هَؤُلَاءِ ، يَعْنِي : بَنِي أُمَيَّةَ ، لَقَالُوا : هُوَ عُثْمَانُ .
ترجمہ

امام معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا: ”اس دن (یعنی صلحِ حدیبیہ کے موقع پر) معاہدہ تحریر کرنے والے کون تھے؟“ تو وہ ہنس پڑے اور فرمایا: ”وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اور اگر تم ان لوگوں یعنی بنو امیہ سے دریافت کرو گے تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔“
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ صلحِ حدیبیہ کی دستاویز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی، جبکہ امام زہری نے بنو امیہ کے اس سیاسی میلان کی نشاندہی کی ہے کہ وہ خاندانی فضیلت کی خاطر اس اہم خدمت کا انتساب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4287
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده حسن لغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»