المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
ذِكْرِ قريظة باب: بنو قریظہ کا تذکرہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ ، قَالَتْ : قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : مَا نَسِيتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ ، وَقَدِ اغْبَرَّ شَعَرُهُ - يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ :
إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ .
4281 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ نَحْوَهُ ، وَالْأَوَّلُ أَعَمُّ .
( 204 ) وَتَقَدَّمَ حَدِيثُ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي فَضْلِهَا .ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں غزوہ خندق کا وہ دن کبھی نہیں بھولی جب نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور (شدید مشقت کے باعث) آپ ﷺ کے موئے مبارک گرد و غبار سے اٹ گئے تھے، اس وقت آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے: «إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ» ”بے شک حقیقی بھلائی تو صرف آخرت ہی کی بھلائی ہے، پس (اے اللہ!) تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔““
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ اور امام ابو خیثمہ نے روایت کیا ہے اور پہلی سند کی روایت زیادہ جامع ہے؛ نیز سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے متعلق حدیث پہلے گزر چکی ہے۔