المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
ذِكْرِ قريظة باب: بنو قریظہ کا تذکرہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ هُوَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ بَنُو قُرَيْظَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُوا إِلَيَّ سَيِّدَكُمْ يَحْكُمُ فِي عِبَادِهِ ، يَعْنِي : سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ لَهُ : احْكُمْ ، قَالَ : أَخْشَى أَلَا أُصِيبَ فِيهِمْ حُكْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْكُمْ فِيهِمْ فَحَكَمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ حُكْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ .
هَذَا إِسْنَادٌ كُوفِيٌّ ، فِيهِ ضَعِيفَانِ : جَابِرٌ ، وَسُفْيَانُ .سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو قریظہ کا معاملہ درپیش ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس اپنے سردار کو بلاؤ تاکہ وہ اللہ کے ان بندوں کے بارے میں فیصلہ کرے“، آپ ﷺ کی مراد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم ان کے متعلق فیصلہ صادر کرو۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے (عین) حکم تک نہ پہنچ سکوں۔“ آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا: ”تم ان کے درمیان فیصلہ کرو۔“ چنانچہ انہوں نے فیصلہ سنا دیا، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول کے فیصلے کے عین مطابق فیصلہ کیا ہے۔“
یہ سند کوفی ہے، اس میں جابر اور سفیان نامی دو راوی ضعیف ہیں۔