❮
❯
حدیث نمبر: 4280
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ هُوَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ بَنُو قُرَيْظَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُوا إِلَيَّ سَيِّدَكُمْ يَحْكُمُ فِي عِبَادِهِ ، يَعْنِي : سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ لَهُ : احْكُمْ ، قَالَ : أَخْشَى أَلَا أُصِيبَ فِيهِمْ حُكْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْكُمْ فِيهِمْ فَحَكَمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ حُكْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ .
هَذَا إِسْنَادٌ كُوفِيٌّ ، فِيهِ ضَعِيفَانِ : جَابِرٌ ، وَسُفْيَانُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو قریظہ کا معاملہ درپیش ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس اپنے سردار کو بلاؤ تاکہ وہ اللہ کے ان بندوں کے بارے میں فیصلہ کرے“، آپ ﷺ کی مراد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم ان کے متعلق فیصلہ صادر کرو۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میں ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے (عین) حکم تک نہ پہنچ سکوں۔“ آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا: ”تم ان کے درمیان فیصلہ کرو۔“ چنانچہ انہوں نے فیصلہ سنا دیا، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول کے فیصلے کے عین مطابق فیصلہ کیا ہے۔“
یہ سند کوفی ہے، اس میں جابر اور سفیان نامی دو راوی ضعیف ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4280
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ كُوفِيٌّ ، فِيهِ ضَعِيفَانِ : جَابِرٌ ، وَسُفْيَانُ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»