المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ قصة العرنيين باب: عرنیوں کے قصے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4282
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَيْنَ كُنْتَ يَوْمَ أُغِيرَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كُنْتُ عَلَى الْبِئْرِ أَسْقِي .ترجمہ
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”جس روز اللہ کے رسول ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیوں پر (دشمنوں کی جانب سے) چھاپہ مار کر انہیں لوٹا گیا تھا، اس وقت آپ کہاں موجود تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں اس وقت کنویں پر (جانوروں کو) پانی پلانے کی خدمت انجام دے رہا تھا۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔