المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
ذِكْرِ قريظة باب: بنو قریظہ کا تذکرہ۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُقَتَّلَ مَنْ جَرَتْ عَلَيْهِ الْمُوسَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ اس دن (غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر) سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ (دشمن کے جنگجوؤں میں سے) ہر وہ شخص قتل کر دیا جائے جس پر استرا چل چکا ہو (یعنی جس کے زیرِ ناف بال اگ آنے کی علامت سے اس کے بالغ ہونے کی تصدیق ہو جائے)، تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے (ان کے فیصلے کی تصویب و تائید کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”یقیناً تم نے ان کے معاملے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا سات آسمانوں کے اوپر سے صادر شدہ فیصلہ تھا۔“
امام حارث نے اس کی تخریج کی ہے اور اس کی سند میں محمد بن عمر، محمد بن صالح، سعد بن ابراہیم اور عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں۔