المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الأحزاب وقريظة باب: غزوۂ احزاب اور بنو قریظہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4277
قَالَ إِسْحَاقُ : ثَنَا رَوْحٌ هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ الزُّبَيْرَ وَرَجُلًا آخَرَ فِي لَيْلَةٍ قَمِرَةٍ فَنَظَرَا ، ثُمَّ جَاءَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْطٍ لِأُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَدْخَلَهُمَا فِي الْمِرْطِ ، وَلَزِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ .
قُلْتُ : هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ السَّنَدِ ، ذُكِرَ فِيهِ نَظَرٌ .ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے مرسلاً روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احزاب کی رات سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے شخص کو چاندنی رات میں (دشمن کی جاسوسی کے لیے) روانہ فرمایا، ان دونوں نے جا کر صورتِ حال کا مشاہدہ کیا اور پھر واپس حاضر ہوئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ایک اونی چادر (مرط) اوڑھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان دونوں کو بھی اسی چادر میں اپنے ساتھ داخل کر لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پہلو مبارک سے لگے ہوئے تھے۔“
میں کہتا ہوں: یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کی سند صحیح ہے، اور اس میں (بعض پہلوؤں سے) کلام یا نظر موجود ہے۔