المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الأحزاب وقريظة باب: غزوۂ احزاب اور بنو قریظہ کا بیان۔
وَبِهِ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْعُمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَنْدَقِ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ وَجَدُوا صَفَاةً لَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَنْقُبُوهَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ ضَرْبَةً مِنْ رَجُلٍ كَانَتْ أَكْبَرَ صَوْتًا مِنْهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللهُ أَكْبَرُ فُتِحَتْ فَارِسُ ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى مِثْلَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللهُ أَكْبَرُ فُتِحَتِ الرُّومُ ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى مِثْلَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللهُ أَكْبَرُ جَاءَ اللهُ بِحِمْيَرَ أَعْوَانًا وَأَنْصَارًا .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم ارشاد فرمایا، اسی دوران ایک گروہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ انہیں ایک ایسی سخت چٹان ملی ہے جسے وہ توڑنے کی استطاعت نہیں رکھتے، پس رسول اللہ ﷺ (اسے توڑنے کے لیے) تشریف لائے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ہمراہ اٹھ کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے کدال تھامی اور اس چٹان پر ضرب لگائی، میں نے کسی بھی انسان کی لگائی ہوئی ضرب کی اس سے زیادہ بلند آواز کبھی نہیں سنی تھی، تب آپ ﷺ نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، فارس فتح کر لیا گیا“، پھر آپ ﷺ نے اسی طرح دوسری ضرب لگائی تو فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، روم فتح کر لیا گیا“، پھر آپ ﷺ نے ویسی ہی ایک اور ضرب لگائی اور ارشاد فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ نے قبیلہ حمیر کو مددگار اور معاون بنا کر پیش کر دیا ہے“۔
تخریج: یہ روایت مسند احمد (6490) اور المعجم الکبیر للطبرانی (14500) میں موجود ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے تاہم دیگر احادیث میں اس واقعے کے شواہد موجود ہیں۔