المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الأحزاب وقريظة باب: غزوۂ احزاب اور بنو قریظہ کا بیان۔
وَبِهِ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ :
اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَالْعَنْ عَضَلًا وَالْقَارَهْ هُمْ كَلَّفُونَا نَقْلَ الْحِجَارَهْطاؤس بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ، فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ، وَالْعَنْ عَضَلًا وَالْقَارَهْ، هُمْ كَلَّفُونَا نَقْلَ الْحِجَارَهْ» ”اے اللہ! حقیقی زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما، اور عضل اور قارہ (نامی قبائل) پر لعنت فرما، انہوں نے ہمیں پتھر ڈھونے (یعنی خندق کی کھدائی اور سخت دفاعی مشقت) کی تکلیف میں مبتلا کیا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ امام طاؤس رحمہ اللہ تابعی ہیں اور وہ براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کر رہے ہیں۔