المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة الأحزاب وقريظة باب: غزوۂ احزاب اور بنو قریظہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4274
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ :
بِاسِمِ اللهِ وَبِهِ بَدَيْنَا وَلَوْ عَبَدْنَا غَيْرَهُ شَقَيْنَا حَبَّذَا رَبًّا وَحَبَّذَا دِينًا .ترجمہ
ابوعثمان النہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پر اپنے دونوں مبارک ہاتھوں سے (زمین پر) ضرب لگائی اور پھر فرمایا: ”«بِاسْمِ اللهِ وَبِهِ بَدَيْنَا، وَلَوْ عَبَدْنَا غَيْرَهُ شَقَيْنَا، حَبَّذَا رَبًّا وَحَبَّذَا دِينًا» اللہ کے نام کے ساتھ اور اسی کی توفیق سے ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا، اور اگر ہم اس کے سوا کسی اور کی بندگی اختیار کرتے تو یقیناً سخت بدبخت اور نامراد ہو جاتے، وہ کتنا ہی بہترین رب ہے اور یہ کتنا ہی عمدہ دین ہے!“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔