المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
ذِكْرِ مِنْ قتل ببدر باب: غزوۂ بدر میں قتل ہونے والوں کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أُوتِيَ بِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ أَسِيرًا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَقْتُلَنَّكَ فَقَالَ : تَقْتُلُنِي مِنْ بَيْنِ قُرَيْشٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَتَانِي وَأَنَا سَاجِدٌ فَوَطِئَ عَلَى عُنُقِي ، فَوَاللهِ مَا رَفَعَهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ عَيْنَيَّ سَتَقَعَانِ ، وَأَتَى بِسَلَى جَزُورٍ فَأَلْقَاهُ عَلَيَّ ، حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَمَاطَتْهُ عَنْ رَأْسِي ، قَالَ : ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَقُتِلَ .امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کا موقع تھا تو عقبہ بن ابی معیط کو قیدی بنا کر لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ”میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔“ اس نے (حیرت سے) کہا: ”کیا آپ تمام قریش میں سے (صرف) مجھے ہی قتل کریں گے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں!“ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”اس شخص نے میرے پاس آ کر اس وقت میری گردن کو اپنے پاؤں تلے روندا تھا جب میں سجدے کی حالت میں تھا، پس اللہ کی قسم! اس نے اپنا پاؤں اس وقت تک نہیں ہٹایا تھا یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میری دونوں آنکھیں (دباؤ کی شدت سے) باہر نکل پڑیں گی، اور یہ اونٹ کی اوجھڑی «سَلَى جَزُورٍ» لے کر آیا تھا اور اسے مجھ پر ڈال دیا تھا، یہاں تک کہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) آئیں اور انہوں نے اسے میرے سر سے ہٹایا تھا“، راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کے متعلق حکم صادر ہوا اور اسے قتل کر دیا گیا۔
یہ روایت غزوہ بدر میں قتل ہونے والوں کے تذکرے کے تحت امام الحارث نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔