المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة بدر باب: غزوۂ بدر کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، فَذَكَرَهُ .
4247 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ قَالَ : لَقَدْ قَلُّوا فِي أَعْيُنِنَا حَتَّى قُلْتُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِي : أَتُرَاهُمْ سَبْعِينَ ؟ فَقَالَ : أُرَاهُمْ مِائَةً ، حَتَّى أَخَذْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ : كُنَّا أَلْفًا .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِنْ كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ ، فَقَدِ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْهُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ﴾ [سورة الأنفال: 44] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا کہ ”(جنگِ بدر کے موقع پر) وہ دشمن ہماری آنکھوں میں اتنے تھوڑے دکھائی دیے کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص سے کہا: ”کیا تم انہیں ستر محسوس کر رہے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میرا خیال ہے کہ وہ سو ہیں۔“ یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا اور اس سے ان کی تعداد کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ”ہم ایک ہزار تھے۔““
میں کہتا ہوں کہ یہ اسناد صحیح ہے بشرطیکہ ابو عبیدہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہو، کیونکہ ان کے اپنے والد سے سماع کے بارے میں (اہلِ علم کے ہاں) اختلاف پایا جاتا ہے۔