❮
❯
حدیث نمبر: 4246
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَفَعْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَضَرَبْتُهُ ، فَقَتَلَهُ اللهُ تَعَالَى ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ ، وَوَجَدْتُ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عِنْدَهُ أَسِيرًا ، فَقَالَ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ ! فَقُلْتُ : يَا عَدُوَّ اللهِ ، أَأَنْتَ تُكَذِّبُنِي ؟ قَالَ : فَمَا رَأَيْتَ بِهِ ؟ قُلْتُ : رَأَيْتُ بِفَخِذِهِ حَلْقَةً مِثْلَ حَلْقَةِ الْبَعِيرِ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، هِيَ كَيَّةُ نَارٍ اكْتَوَى بِهَا مِنَ الشَّوْكَةِ .
قَالَ : وَأَبُو جَهْلٍ يَقُولُ :
مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الْعَوَانُ مِنِّي بَازِلٌ عَامَيْنِ سَدِيسٌ سِنِّي
لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِي أُمِّي قُلْتُ : قِصَّةُ أَبِي جَهْلٍ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
وَهَذَا الْإِسْنَادُ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں جنگِ بدر کے دن ابوجہل تک پہنچ گیا، پھر میں اس کے قریب ہوا اور اسے ضرب لگائی، پس اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا؛ پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی اطلاع دی، اس وقت میں نے عقیل بن ابی طالب کو آپ ﷺ کے پاس بطورِ قیدی موجود پایا، انہوں نے (مجھ سے) پوچھا: ”کیا واقعی تم نے اسے قتل کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں!“ انہوں نے کہا: ”تم نے غلط بیانی کی ہے!“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے دشمن! کیا تو مجھے جھٹلاتا ہے؟“ انہوں نے پوچھا: ”پھر تم نے اس کے جسم پر کیا نشانی دیکھی؟“ میں نے کہا: ”میں نے اس کی ران پر اونٹ کے حلقے (داغ) جیسا ایک نشان دیکھا تھا۔“ انہوں نے کہا: ”تم نے سچ کہا، وہ آگ سے داغنے کا ایک نشان تھا جو اس نے شوکہ (ایک جلدی بیماری) کی وجہ سے لگوایا تھا۔“
اور ابوجہل (مرتے وقت یہ اشعار) کہہ رہا تھا: ”اس گھمسان کی جنگ کو مجھ سے کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ میں تو نو سالہ جوان اور مضبوط اونٹ ہوں، میری ماں نے مجھے ایسے ہی (بہادری دکھانے والے) دن کے لیے جنم دیا تھا۔“
(امام صاحب فرماتے ہیں کہ) ابوجہل کا یہ قصہ ابوداؤد اور دیگر محدثین نے بھی ابوعبیدہ کے طریق سے اپنے والد سے روایت کیا ہے لیکن اس کا سیاق اس سے مختلف ہے، نیز یہ سند ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4246
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا الْإِسْنَادُ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مسند البزار برقم: 1750، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8476»