المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْفَتْحِ عَلَى الْإِمَامِ باب: نماز میں امام کی قراءت کی تصحیح کرنے یا اسے لقمہ دینے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ هُوَ الْأَسَدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ( تَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آيَةٍ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ : ( أَمَا صَلَّى مَعَكُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَرَأَى الْقَوْمُ أَنَّهُ إِنَّمَا تَفَقَّدَهُ لِيَفْتَحَ عَلَيْهِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز میں ایک آیت کی تلاوت کے دوران کچھ تذبذب محسوس فرمایا، پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو حاضرین کے چہروں کی طرف دیکھ کر دریافت فرمایا: ”کیا ابی بن کعب نے تمہارے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی نہیں، تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ آپ ﷺ نے انہیں صرف اس لیے یاد فرمایا ہے تاکہ وہ (قرأت میں لقمہ دے کر) آپ ﷺ کی اصلاح کر سکیں۔
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 424) میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں قیس بن الربیع سوءِ حفظ کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم نماز میں لقمہ دینے کے حوالے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ دیگر معتبر احادیث میں بھی موجود ہے جو اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔