المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْفَتْحِ عَلَى الْإِمَامِ باب: نماز میں امام کی قراءت کی تصحیح کرنے یا اسے لقمہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 423
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُبَشِّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ( مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُفْتَحَ عَلَى الْإِمَامِ إِذَا اسْتَطْعَمَكَ ) . قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَا اسْتِطْعَامُ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : إِذَا سَكَتَ .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”سنت کا طریقہ یہ ہے کہ امام کو لقمہ دیا جائے جب وہ تم سے لقمہ طلب کرے۔“ میں نے ابوعبدالرحمن سے دریافت کیا کہ امام کے لقمہ طلب کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ جب امام (دورانِ قرات بھولنے کی وجہ سے) خاموش ہو جائے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس سے یہ فقہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں امام کے قرات بھول جانے یا اٹک جانے پر مقتدی کا اسے یاد دلانا مسنون عمل ہے تاکہ تلاوت کا تسلسل برقرار رہے اور نماز کی درست طریقے سے تکمیل ہو۔