المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ بِنَاءِ الكعبة باب: کعبہ کی تعمیر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ إِلَى الْبَيْتِ حِينَ بَنَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَكَانَتِ الرِّجَالُ تَنْقُلُ الْحِجَارَةَ ، وَالنِّسَاءُ يَنْقُلْنَ الشِّيدَ ، وَالشِّيدُ : مَا يُجْعَلُ بَيْنَ الصَّخْرِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كُنْتُ أَنْقُلُ أَنَا وَابْنُ أَخِي مُحَمَّدٌ ، فَكُنَّا نَنْقُلُ عَلَى رِقَابِنَا ، وَنَجْعَلُ أُزُرَنَا تَحْتَ الصَّخْرِ ، فَإِذَا غَشِيَنَا النَّاسُ اتَّزَرْنَا ، فَبَيْنَا أَنَا وَمُحَمَّدٌ بَيْنَ يَدَيَّ إِذْ وَقَعَ فَانْبَطَحَ ، فَجِئْتُ أَسْعَى فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَامَ فَاتَّزَرَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نُهِيتُ أَنْ أَمْشِيَ عُرْيَانًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَكَتَمْتُ ذَلِكَ النَّاسَ خَشْيَةَ أَنْ يَرَوْهُ جُنُونًا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”جب قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو ہم بیت اللہ کی طرف پتھر ڈھو کر لا رہے تھے؛ مرد حضرات پتھر اٹھا کر لاتے تھے اور عورتیں «الشيد» یعنی گارا منتقل کر رہی تھیں، اور «الشيد» اس مٹی یا مسالے کو کہتے ہیں جو بڑے پتھروں کے درمیان (تعمیر کے وقت) بھرا جاتا ہے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں اور میرا بھتیجا محمد (ﷺ) مل کر پتھر اٹھا رہے تھے؛ ہم پتھر اپنی گردنوں پر رکھتے تھے اور (پتھر کی رگڑ سے بچنے کے لیے) اپنے تہبند اتار کر پتھروں کے نیچے رکھ لیتے تھے، پھر جب لوگ ہمیں نظر آتے تو ہم اپنا تہبند باندھ لیتے۔ اسی اثنا میں، میں اور محمد (ﷺ) ساتھ تھے اور وہ میرے آگے چل رہے تھے کہ اچانک آپ (ﷺ) گرے اور اوندھے منہ لیٹ گئے۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ آپ (ﷺ) آسمان کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ تو آپ (ﷺ) کھڑے ہوئے اور اپنا تہبند باندھ لیا، پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے برہنہ ہو کر چلنے سے منع کر دیا گیا ہے“۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے اس واقعے کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا تاکہ وہ اسے (معاذ اللہ) جنون نہ سمجھنے لگیں“۔
یہ حدیث مسند ابویعلیٰ (4221) میں مروی ہے، اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء بجلی ضعیف ہے، البتہ اس واقعے کی اصل صحیح بخاری (364) اور صحیح مسلم (340) میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت سے ثابت ہے جس میں ذکر ہے کہ اس موقع پر آپ ﷺ بیہوش ہو کر گر پڑے تھے اور اس کے بعد کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے۔