المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ البعث باب: نبی کریم ﷺ کی بعثت کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ هُوَ وَخَدِيجَةُ شَهْرًا ، فَوَافَقَ ذَلِكَ رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ "السَّلَامُ عَلَيْكَ" ، قَالَتْ : قَالَ : وَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّهُ فَجْأَةُ الْجِنِّ ، فَقَالَتْ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّ السَّلَامَ خَيْرٌ ، ثُمَّ رَأَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الشَّمْسِ ، جَنَاحٌ لَهُ بِالْمَشْرِقِ ، وَجَنَاحٌ لَهُ بِالْمَغْرِبِ ، فَهِبْتُ مِنْهُ ، قَالَتْ : فَانْطَلَقَ يُرِيدُ أَهْلَهُ ، فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَابِ ، فَقَالَ : فَكَلَّمَنِي ، حَتَّى آنَسْتُ بِهِ ، ثُمَّ وَعَدَنِي مَوْعِدًا ، فَجِئْتُ لِمَوْعِدِهِ ، وَاحْتَبَسَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ إِذَا بِهِ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ، فَهَبَطَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْأَرْضِ ، وَبَقِيَ مِيكَائِيلُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَصَلَقَنِي لِحَلَاوَةِ الْقَفَا ، وَشَقَّ عَنْ بَطْنِي فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللهُ تَعَالَى ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهِ ، ثُمَّ كَفَأَنِي كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ ، ثُمَّ خَتَمَ فِي ظَهْرِي حَتَّى وَجَدْتُ مَسَّ الْخَاتَمِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ، وَلَمْ أَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ ، فَأَخَذَنِي بِحَلْقِي حَتَّى أَجْهَشْتُ بِالْبُكَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : مَا لَمْ يَعْلَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : تَبِعَتْهُ أُمَّتُهُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، حَتَّى جِئْتُ إِلَى مَنْزِلِي ، فَمَا تَلَقَّانِي حَجَرٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَتِ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ .
4221 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ شَهْرًا هُوَ وَخَدِيجَةُ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ شَهْرَ رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَسَمِعَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَظَنَنْتُهَا فَجْأَةَ الْجِنِّ ، فَجِئْتُ مُسْرِعًا ، حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى خَدِيجَةَ فَسَجَّتْنِي ثَوْبًا ، وَقَالَتْ : مَا شَأْنُكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللهِ ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَى أَنْ قَالَ : حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى خَمْسِ آيَاتٍ مِنْهَا ، فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ ، ثُمَّ وَزَنَنِي بِرَجُلٍ فَوَزَنْتُهُ ، ثُمَّ وَزَنَنِي بِآخَرَ فَوَزَنْتُهُ ، حَتَّى وُزِنْتُ بِمِائَةِ رَجُلٍ ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ فَوْقِهِ : تَبِعَتْهُ أُمَّتُهُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک ماہ کا اعتکاف کیا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ (خلوت گاہ سے) باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے «السَّلَامُ عَلَيْكَ» ”آپ پر سلامتی ہو“ کی آواز سنی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے گمان کیا کہ یہ جنات کی اچانک آمد ہے“۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”آپ کو خوشخبری ہو، کیونکہ سلامتی تو خیر و بھلائی ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے ایک دوسرے دن سیدنا جبریل علیہ السلام کو سورج کے پاس (افق پر) دیکھا، جن کا ایک پر مشرق میں اور ایک پر مغرب میں تھا، تو میں ان سے ہیبت زدہ ہو گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی طرف روانہ ہوئے تو اچانک جبریل علیہ السلام کو اپنے اور دروازے کے درمیان پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس انہوں نے مجھ سے کلام کیا یہاں تک کہ میں ان سے مانوس ہو گیا، پھر انہوں نے مجھ سے (ملاقات کا) ایک وعدہ کیا، چنانچہ میں ان کے وعدے پر حاضر ہوا، لیکن جبریل علیہ السلام آنے میں کچھ دیر کر گئے، پھر جب وہ واپس آنا چاہتے تھے تو اچانک وہ اور میکائیل علیہ السلام ساتھ تھے، پس جبریل علیہ السلام زمین کی طرف اتر آئے جبکہ میکائیل علیہ السلام زمین و آسمان کے درمیان ٹھہرے رہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جبریل علیہ السلام نے مجھے پکڑ کر گدی کے بل لٹایا اور میرا پیٹ چاک کیا، پھر اس میں سے جو اللہ نے چاہا نکال دیا، پھر اسے سونے کے ایک طشت میں دھویا اور دوبارہ اپنی جگہ رکھ دیا، پھر مجھے اس طرح بھینچا جیسے برتن کو اوندھا کیا جاتا ہے، پھر میری پیٹھ پر مہر ثبت کر دی یہاں تک کہ میں نے اس مہر کی لمس کو محسوس کیا، پھر مجھ سے کہا: پڑھئے اپنے رب کے نام سے، حالانکہ میں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی، پس انہوں نے مجھے گلے سے پکڑا یہاں تک کہ میں رونے کے قریب ہو گیا، پھر انہوں نے ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] سے لے کر اللہ عزوجل کے فرمان ﴿مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 5] تک تلاوت کی“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا“۔ اس پر میکائیل علیہ السلام نے کہا: ”ربِ کعبہ کی قسم! ان کی امت ان کی پیروی کرے گی“۔ یہاں تک کہ میں اپنے گھر آیا تو جس پتھر اور درخت کے پاس سے بھی میرا گزر ہوا اس نے یہی کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو“، یہاں تک کہ میں خدیجہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے بھی کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو“۔
حارث نے اپنی روایت میں یزید بن بابنوس کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ایک ماہ اعتکاف کی نذر مانی تھی، اور یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نبی کریم ﷺ ایک رات باہر نکلے تو آپ ﷺ نے «السَّلَامُ عَلَيْكَ» ”آپ پر سلامتی ہو“ کی آواز سنی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اسے جنات کی اچانک آہٹ سمجھا، چنانچہ میں تیزی سے واپس آیا یہاں تک کہ خدیجہ کے پاس پہنچ گیا، انہوں نے مجھے کپڑے سے ڈھانپ دیا اور پوچھا: اے ابنِ عبداللہ! آپ کو کیا ہوا؟“ پھر راوی نے اسی طرح پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ہم سورت کی ابتدائی پانچ آیات تک پہنچ گئے، اور اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا، پھر (فرشتے نے) میرا وزن ایک آدمی کے ساتھ کیا تو میرا وزن زیادہ نکلا، پھر ایک اور کے ساتھ کیا تو بھی میرا وزن زیادہ رہا، یہاں تک کہ میرا وزن سو آدمیوں کے ساتھ کیا گیا (تب بھی میرا پلڑا بھاری رہا)۔ تب میکائیل علیہ السلام نے اوپر سے پکار کر کہا: ربِ کعبہ کی قسم! ان کی امت ان کی پیروی کرے گی“۔