❮
❯
حدیث نمبر: 4220
وَقَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ لَيْسَ فِيهِ مَدَرٌ ، وَكَانَتْ قَدْرَ مَا يَقْتَحِمُهَا الْعَنَاقُ ، وَكَانَتْ غَيْرَ مَهُولَةٍ إِنَّمَا يُوضَعُ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ تُسْدَلُ سَدْلًا عَلَيْهَا ، وَكَانَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مَوْضُوعًا عَلَى سُورِهَا بَادِيًا ، وَكَانَتْ ذَاتَ رُكْنَيْنِ كَهَيْئَةِ الْحَلْقَةِ ، مُرَبَّعَةً مِنْ جَانِبٍ وَمُدَوَّرَةً مِنْ جَانِبٍ ، فَأَقْبَلَتْ سَفِينَةٌ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ جُدَّةَ انْكَسَرَتِ السَّفِينَةُ ، فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ لِيَأْخُذُوا خَشَبَهَا فَوَجَدُوا رُومِيًّا عِنْدَهَا ، فَأَخَذُوا الْخَشَبَ ، فَأَعْطَاهُمْ إِيَّاهَا ، وَكَانَتِ السَّفِينَةُ تُرِيدُ الْحَبَشَةَ ، وَكَانَ الرُّومِيُّ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ تَاجِرًا ، فَقَدِمُوا بِالْخَشَبِ ، وَقَدِمُوا بِالرُّومِيِّ ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : نَبْنِي بِهَذَا الْخَشَبِ بَيْتَ رَبِّنَا ، فَلَمَّا أَرَادُوا هَدْمَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ عَلَى سُورِ الْبَيْتِ ، بَيْضَاءَ الْبَطْنِ ، سَوْدَاءَ الظَّهْرِ ، فَجَعَلَتْ كُلَّمَا دَنَا أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ لِيَهْدِمَهُ يَأْخُذَ مِنْ حِجَارَتِهِ سَعَتْ إِلَيْهِ فَاتِحَةً فَاهَا ، فَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عِنْدَ الْمَقَامِ فَعَجُّوا إِلَى اللهِ تَعَالَى ، قَالَ : وَقَالُوا : رَبَّنَا لَمْ تُرَعْ ، أَرَدْنَا تَشْرِيفَ بَيْتِكَ وَتَزْيِينَهُ ، فَإِنْ كُنْتَ تَرْضَى بِذَلِكَ ، وَإِلَّا فَمَا بَدَا لَكَ فَافْعَلْ ، فَسَمِعُوا جَوَابًا فِي السَّمَاءِ ، فَإِذَا بِطَائِرٍ أَعْظَمَ مِنَ النَّسْرِ أَسْوَدَ الظَّهْرِ أَبْيَضَ الْبَطْنِ وَالرِّجْلَيْنِ ، فَغَرَزَ مَخَالِبَهُ فِي بَطْنِ الْحَيَّةِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهَا يَجُرُّهَا وَذَنَبُهَا سَاقِطٌ ، حَتَّى انْطَلَقَ بِهَا نَحْوَ جِيَادٍ ، فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ ، فَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي ، تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا ، وَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا ، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَهُ مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ ، فَذَهَبَ بَعْضُ النَّمِرَةِ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ ، فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ ، خَمِّرْ عَوْرَتَكَ ، فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ ، وَكَانَ بَيْنَ بِنَائِهَا وَبَيْنَ مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيْهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمَّا كَانَ جَيْشُ الْحُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ ... فَذَكَرَ حَرِيقَهَا فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ سَابِطٍ أَنَّهُ لَمَّا بَنَاهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَشَفُوا عَنِ الْقَوَاعِدِ ، فَإِذَا الْحَجَرُ فِيهَا مِثْلُ الْحَلْقَةِ ، مُشَبَّكَةٌ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ ، إِذَا حُرِّكَتْ بِالْعَتَلَةِ تَحَرَّكَ الَّذِي مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى .
قَالَ ابْنُ سَابِطٍ : فَأَرَانِيهِ زَيْدٌ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهَا أَمْثَالَ الْحَلْقَةِ مُشَبَّكَةً أَطْرَافُ بَعْضِهَا بِبَعْضٍ .
قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : لَمَّا هَدَمُوا الْبَيْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا مَوْضِعَ الرُّكْنِ ، خَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ ، كَأَنَّمَا عُنُقُهَا عُنُقُ بَعِيرٍ ، فَهَابَ النَّاسُ أَنْ يَدْنُوا مِنْهَا ، فَجَاءَ طَائِرٌ ظَلَّلَ نِصْفَ مَكَّةَ فَأَخَذَهَا بِرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ حَلَّقَ بِهَا حَتَّى قَذَفَهَا فِي الْبَحْرِ .
قَالَ مُجَاهِدٌ : وَخَرَجُوا يَوْمًا ، فَنَزَعَ رَجُلٌ مِنَ الْبَيْتِ حَجَرًا فَسَرَقَ مِنْ حِلْيَةِ الْبَيْتِ ، ثُمَّ عَادَ فَسَرَقَ فَلَصِقَ الْحَجَرُ عَلَى رَأْسِهِ .
ترجمہ

سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کعبہ محض پتھروں کو ایک دوسرے پر رکھ کر (بغیر گارے کے) تعمیر کیا گیا تھا جس میں مٹی کا استعمال نہیں ہوا تھا، اور اس کی بلندی اتنی کم تھی کہ بکری کا بچہ اس پر کود کر چڑھ جاتا تھا، وہ کوئی پرہیبت عمارت نہ تھی بلکہ اس پر محض پردے ڈال کر لٹکا دیے جاتے تھے۔ حجرِ اسود کعبہ کی دیوار پر بالکل ظاہر رکھا ہوا تھا اور بیت اللہ کے (صرف) دو کونے تھے جو ایک حلقے کی مانند تھے، یعنی وہ ایک جانب سے مستطیل نما (مربع) اور دوسری طرف سے گولائی لیے ہوئے تھا۔ پھر ملکِ روم کی جانب سے ایک بحری جہاز آیا اور جب وہ جدہ کے قریب پہنچا تو ٹوٹ کر تباہ ہو گیا، قریش اس کی لکڑی حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہاں انہیں ایک رومی شخص ملا، انہوں نے اس سے لکڑیاں لیں جو اس نے انہیں دے دیں، وہ جہاز حبشہ جا رہا تھا اور وہ رومی تاجر تھا۔ قریش لکڑیاں اور اس رومی کو لے کر مکہ آئے اور کہنے لگے: ”ہم ان لکڑیوں سے اپنے رب کے گھر کی تعمیر کریں گے۔“ جب انہوں نے اسے گرانے کا ارادہ کیا تو اچانک بیت اللہ کی دیوار پر ایک سفید پیٹ اور سیاہ پیٹھ والا سانپ نمودار ہو گیا، جب بھی کوئی شخص بیت اللہ کو گرانے یا اس کا پتھر ہٹانے کے لیے قریب آتا تو وہ اپنا منہ کھول کر اس پر جھپٹتا۔ قریش مقامِ ابراہیم کے پاس جمع ہوئے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر فریاد کی اور عرض کیا: «رَبَّنَا لَمْ تُرَعْ» ”اے ہمارے رب! ہم آپ کو ڈرانا یا ناراض کرنا نہیں چاہتے، ہم نے تو محض آپ کے گھر کی عظمت و آرائش کا ارادہ کیا ہے، پس اگر آپ راضی ہیں تو ٹھیک، ورنہ جو آپ کو منظور ہو وہی کریں۔“ پھر انہوں نے آسمان سے ایک جواب (آواز) سنی اور اچانک ایک پرندہ نمودار ہوا جو عقاب سے بھی بڑا تھا، اس کی پیٹھ سیاہ جبکہ پیٹ اور پاؤں سفید تھے، اس نے اپنے پنجے سانپ کے پیٹ میں گاڑ دیے اور اسے گھسیٹتے ہوئے لے گیا جبکہ اس کی دم نیچے لٹک رہی تھی، یہاں تک کہ اسے جِیاد کی طرف لے گیا۔ تب قریش نے بیت اللہ کو منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اسے دوبارہ تعمیر کرنے لگے جنہیں وہ اپنی گردنوں پر اٹھا کر لاتے تھے، انہوں نے اسے بیس ہاتھ بلند کیا۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ بھی اجیاد سے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے اور آپ ﷺ نے ایک دھاری دار چادر (نمرہ) اوڑھ رکھی تھی، چادر تنگ ہونے کی وجہ سے جب وہ آپ ﷺ کے کندھے پر آئی تو ستر کا کچھ حصہ ظاہر ہونے لگا، تب ندا دی گئی: ”اے محمد! اپنا ستر چھپائیے“، اس کے بعد آپ ﷺ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا۔ کعبہ کی اس تعمیر اور نزولِ وحی کے درمیان پندرہ سال کا فاصلہ تھا۔ پھر جب حصین بن نمیر کا لشکر آیا تو راوی نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں کعبہ کو آگ لگنے کا تذکرہ کیا۔
ابن خثیم کہتے ہیں کہ مجھے ابن سابط نے بتایا کہ جب ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے تعمیر کیا اور بنیادیں کھودیں تو وہاں ایسے پتھر ملے جو کڑیوں کی طرح ایک دوسرے میں پیوست تھے، اگر ایک طرف سے کدال ماری جاتی تو دوسری طرف کا پتھر بھی حرکت کرتا تھا۔
ابن سابط کہتے ہیں کہ زید نے مجھے چاندنی رات میں عشاء کے بعد وہ بنیادیں دکھائیں جو زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے میں جڑی ہوئی تھیں۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابی زیاد نے مجاہد کے حوالے سے بتایا کہ جب جاہلیت میں بیت اللہ گرایا گیا اور وہ رکن (کونے) تک پہنچے تو ایک سانپ نکلا جس کی گردن اونٹ جیسی تھی، لوگ ڈر گئے تو ایک پرندے نے آ کر آدھے مکہ پر سایہ کر لیا اور اسے پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا۔
مجاہد کہتے ہیں کہ ایک بار ایک شخص نے بیت اللہ کا ایک پتھر اکھاڑا اور وہاں موجود زیورات میں سے کچھ چوری کر لیا، جب وہ دوبارہ چوری کے لیے پلٹا تو وہ پتھر اس کے سر سے چپک کر رہ گیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4220
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 272، وأخرجه مسند أحمد برقم: 24323»