❮
❯
حدیث نمبر: 4219
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا : ثُمَّ حَدَّثَ ، يَعْنِي : عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أُمِرَ بِبِنَاءِ الْبَيْتِ ، فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا ، فَلَمْ يَدْرِ كَيْفَ يَبْنِي ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّكِينَةَ وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ ، فَتَطَوَّقَتْ لَهُ مِثْلَ الْحَجَفَةِ فَبَنَى عَلَيْهَا ، فَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ يَبْنِي سَاقًا - يَعْنِي : بِنَاءً - وَمَكَّةُ شَدِيدَةُ الْحَرِّ ، فَلَمَّا بَلَغَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَوْضِعَ الْحَجَرِ ، قَالَ لِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : اذْهَبْ فَالْتَمِسْ حَجَرًا ، فَذَهَبَ إِسْمَاعِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَطُوفُ فِي الْجِبَالِ ، وَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْحَجَرِ ، فَجَاءَ إِسْمَاعِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَقَالَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا ؟ فَقَالَ : مِنْ عِنْدِ مَنْ لَا يَتَّكِلُ عَلَى بِنَائِي وَبِنَائِكَ ، فَوَضَعَهُ .
فَأَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ فَبَسَطَهُ فَوَضَعَهُ فِيهِ ، وَأَمَرَ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ رَجُلًا ، فَأَخَذَ بِنَاحِيَةٍ مِنَ الثَّوْبِ فَرَفَعَهُ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ .
4219 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَقَيْسٌ وَهُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ ، وَسَلَّامٌ وَهُوَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا هُدِمَ الْبَيْتُ بَعْدَ جُرْهُمٍ ، بَنَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَضَعُوا الْحَجَرَ تَشَاجَرُوا مَنْ يَضَعُهُ ، فَاتَّفَقُوا أَنْ يَضَعَهُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَوَضَعَ الْحَجَرَ فِي وَسَطِهِ ، وَأَمَرَ كُلَّ فَخِذٍ أَنْ يَأْخُذُوا بِطَائِفَةٍ مِنَ الثَّوْبِ ، فَرَفَعُوهُ ، وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
4219 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَرْفَعُوا الْحَجَرَ ، يَعْنِي : قُرَيْشًا ، اخْتَصَمُوا فِيهِ ، فَقَالُوا : نَحْنُ نُحَكِّمُ بَيْنَنَا أَوَّلَ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ هَذِهِ السِّكَّةِ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَنْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ، فَجَعَلُوهُ فِي مِرْطٍ ، ثُمَّ رَفَعَهُ جَمِيعُ الْقَبَائِلِ كُلِّهَا ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ شَابٌّ ، يَعْنِي : قَبْلَ الْبَعْثَةِ .
4219 \ 4 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ ، بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَخْبِرْنِي عَنْ بِنَائِهِ ، قَالَ : أَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا ، قَالَ : فَضُيِّقَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَرْعًا ، فَأَرْسَلَ اللهُ تَعَالَى رِيحًا يُقَالُ لَهَا : السَّكِينَةُ ، وَيُقَالُ : الْخَجُوجُ ، لَهَا عَيْنَانِ وَرَأْسٌ ، فَأَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنْ يَسِيرَ إِذَا سَارَتْ ، وَيَقِيلَ إِذَا قَالَتْ ، فَسَارَتْ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ ، فَتَطَوَّقَتْ عَلَيْهِ مِثْلَ الْحَجَفَةِ ، وَهِيَ بِإِزَاءِ الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ وَإِسْمَاعِيلُ يَبْنِيَانِ كُلَّ يَوْمٍ سَاقًا ، فَإِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِمَا الْحَرُّ ، اسْتَظَلَّا فِي ظِلِّ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا بَلَغَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِإِسْمَاعِيلَ : ائْتِنِي بِحَجَرٍ أَضَعُهُ يَكُونُ عَلَمًا لِلنَّاسِ ، فَاسْتَقْبَلَ إِسْمَاعِيلُ الْوَادِي وَجَاءَ بِحَجَرٍ ، فَاسْتَصْغَرَهُ إِبْرَاهِيمُ وَرَمَى بِهِ ، وَقَالَ : جِئْنِي بِغَيْرِهِ ، فَذَهَبَ إِسْمَاعِيلُ ، وَهَبَطَ جِبْرِيلُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدَ ، فَجَاءَ إِسْمَاعِيلُ ، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ : قَدْ جَاءَنِي مَنْ لَمْ يَكِلْنِي فِيهِ إِلَى حَجَرِكَ ، قَالَ : فَبَنَى الْبَيْتَ ، وَجَعَلَ يَطُوفُ حَوْلَهُ ، وَيَطُوفُونَ وَيُصَلُّونَ ، حَتَّى مَاتُوا وَانْقَرَضُوا ، فَتَهَدَّمَ الْبَيْتُ ، فَبَنَتْهُ الْعَمَالِقَةُ ، فَكَانُوا يَطُوفُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا وَانْقَرَضُوا ، فَبَنَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَلَمَّا بَلَغُوا مَوْضِعَ الْحَجَرِ اخْتَلَفُوا فِي وَضْعِهِ ، فَقَالُوا : أَوَّلُ مَنْ يَطْلُعُ مِنَ الْبَابِ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو وہ (اس کی وسعت و کیفیت کے لحاظ سے) سخت فکر مند ہوئے اور سمجھ نہ پائے کہ تعمیر کیسے کریں، تب اللہ عزوجل نے «السَّكِينَةُ» نازل فرمائی جو کہ ایک تیز رفتار ہوا «رِيحٌ خَجُوجٌ» تھی، اس ہوا نے بیت اللہ کی جگہ پر ڈھال کی طرح حلقہ بنا لیا تو انہوں نے اسی (نشان زدہ بنیاد) پر تعمیر شروع کر دی، وہ ہر روز دیوار کی ایک ایک قطار تعمیر کرتے تھے جبکہ مکہ میں شدید گرمی تھی، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے تو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: ”جاؤ اور کوئی پتھر تلاش کر کے لاؤ“، حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑوں میں پتھر تلاش کرنے لگے تو حضرت جبریل علیہ السلام حجرِ اسود لے کر نازل ہوئے، جب حضرت اسماعیل علیہ السلام واپس آئے تو (پتھر دیکھ کر) پوچھا: ”یہ کہاں سے آیا ہے؟“ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ اس ہستی کی طرف سے آیا ہے جو میری اور تمہاری محنت پر تکیہ نہیں رکھتی“، پھر انہوں نے اسے نصب کر دیا۔
(نبی کریم ﷺ کے عہدِ شباب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) آپ ﷺ نے ایک کپڑا منگوا کر اسے بچھایا اور حجرِ اسود کو اس میں رکھ دیا، پھر آپ ﷺ نے ہر قوم (قبیلے) سے ایک ایک آدمی کو بلایا اور حکم دیا کہ وہ کپڑے کا ایک ایک کنارہ پکڑ کر اسے اوپر اٹھائیں، جب انہوں نے اسے اٹھا لیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے پکڑ کر (اپنے دستِ مبارک سے) نصب فرما دیا۔
امام طیالسی کی روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو جرہم کے بعد بیت اللہ کی عمارت گر گئی تو قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کیا، جب حجرِ اسود نصب کرنے کا ارادہ کیا تو ان میں جھگڑا ہو گیا کہ اسے کون رکھے گا؟ پھر وہ اس بات پر متفق ہوئے کہ جو سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہوگا وہی فیصلہ کرے گا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک چادر منگوائی اور حجرِ اسود کو اس کے درمیان میں رکھا اور ہر شاخ (قبیلے) کو حکم دیا کہ وہ چادر کا ایک ایک کنارہ پکڑ لیں، جب انہوں نے اسے اٹھایا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے (دیوار میں) نصب کر دیا۔
امام ابوبکر کی روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش نے جب حجرِ اسود کو اٹھانا چاہا تو ان میں تکرار ہوئی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ ”ہمارے درمیان وہ پہلا شخص فیصلہ کرے گا جو اس گلی سے نکلے گا“، راوی کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہی برآمد ہوئے، پھر انہوں نے حجرِ اسود کو ایک اونی چادر میں رکھا اور تمام قبائل نے مل کر اسے اٹھایا، رسول اللہ ﷺ اس دن ایک جوان مرد تھے یعنی یہ واقعہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے کا ہے۔
امام حارث کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ ”میرے لیے ایک گھر تعمیر کرو“، ابراہیم علیہ السلام اس ذمہ داری سے پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جسے «السَّكِينَةُ» اور «الْخَجُوجُ» کہا جاتا ہے، اس کا ایک سر اور دو آنکھیں تھیں، اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ ”جہاں جہاں یہ ہوا چلے تم اس کے ساتھ چلو اور جہاں یہ رکے تم بھی وہیں ٹھہرو“، وہ ہوا چلتی رہی یہاں تک کہ بیت اللہ کے مقام پر رک گئی اور ڈھال کی طرح گھیرا ڈال لیا، اور یہ مقام آسمانی «الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ» کے بالکل عین سامنے ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار نکل جائے وہ قیامت تک دوبارہ اس میں نہیں لوٹتا، پھر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام ہر روز ایک ایک قطار تعمیر کرتے اور جب گرمی کی شدت بڑھ جاتی تو پہاڑ کے سائے میں آرام کرتے، جب حجرِ اسود کی جگہ تک پہنچے تو ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے کہا: ”میرے پاس ایک پتھر لاؤ تاکہ میں اسے یہاں نصب کر دوں جو لوگوں کے لیے نشانی بن جائے“، اسماعیل علیہ السلام وادی کی طرف گئے اور ایک پتھر لائے مگر ابراہیم علیہ السلام نے اسے چھوٹا سمجھ کر مسترد کر دیا اور فرمایا: ”میرے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا پتھر لاؤ“، اسماعیل علیہ السلام ابھی گئے ہی تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حجرِ اسود لے کر نازل ہوئے، جب اسماعیل علیہ السلام واپس آئے تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”میرے پاس وہ ہستی پتھر لے آئی ہے جس نے مجھے تمہارے لائے ہوئے پتھر کا محتاج نہیں رہنے دیا“، پھر انہوں نے بیت اللہ تعمیر کیا اور وہاں طواف اور نماز کا سلسلہ شروع ہوا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے اور ان کی نسل ختم ہو گئی، پھر جب عمارت منہدم ہوئی تو اسے قومِ عمالقہ نے تعمیر کیا اور وہ بھی طواف کرتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئے، پھر اسے قریش نے تعمیر کیا اور جب حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے تو ان کا اختلاف ہوا اور انہوں نے طے کیا کہ ”جو سب سے پہلے دروازے سے نمودار ہوگا وہی فیصلہ کرے گا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4219
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 43»