المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ شهوده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مشاهد المشركين قَبْلَ البعثة منكرا عَلَيْهِمْ باب: بعثت سے پہلے نبی کریم ﷺ کے مشرکین کے اجتماعات میں حاضر ہوکر انکار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، فَطَفِقَ يَتَقَلَّبُ ، فَبَصُرَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَأَيْقَظَهُ فَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ مِنَ التُّرَابِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ نَحْوَ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ ، فَتَلَقَّاهُمَا مِيكَائِيلُ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِمِيكَائِيلَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَافِحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : أَجِدُ مِنْ يَدِهِ رِيحَ النُّحَاسِ ، فَكَأَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْكَرَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَفَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسِيَ ، ثُمَّ ذَكَرَ فَقَالَ : صَدَقَ أَخِي ، مَرَرْتُ أَوَّلَ مِنْ أَمْسِ عَلَى إِسَافٍ وَنَائِلَةَ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ قَوْمًا رَضُوا بِكُمَا إِلَهًا مَعَ اللهِ قَوْمُ سُوءٍ .
( 200 ) وَقَدْ مَضَى فِي مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِيَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنْ مَسِّ الصَّنَمِ .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام مسجدِ حرام میں داخل ہوئے اور (آپ ﷺ کو) ڈھونڈنے لگے، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کعبہ کے سائے میں استراحت فرماتے ہوئے پایا، انہوں نے آپ ﷺ کو بیدار کیا تو نبی کریم ﷺ اپنے سر اور داڑھی مبارک سے مٹی جھاڑتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کو ہمراہ لے کر بابِ بنی شیبہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ان کی ملاقات میکائیل علیہ السلام سے ہوئی، تو جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: ”آپ کو نبی کریم ﷺ سے مصافحہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں ان کے ہاتھ مبارک سے تانبے کی بو محسوس کر رہا ہوں۔“ پس جبرائیل علیہ السلام نے گویا اس بات پر تعجب کا اظہار کیا اور آپ ﷺ سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے ایسا کیا تھا؟“ تو گویا نبی کریم ﷺ (وہ بات) بھول گئے تھے، پھر آپ ﷺ کو یاد آیا تو فرمایا: ”میرے بھائی نے سچ کہا ہے، میں پرسوں ’اساف‘ اور ’نائلہ‘ (نامی بتوں) کے پاس سے گزرا تھا تو میں نے اپنا ہاتھ ان میں سے ایک پر رکھا اور کہا تھا: یقیناً وہ قوم بہت ہی بری ہے جس نے اللہ کے ساتھ تم دونوں کو بطورِ معبود قبول کر لیا۔“
(200) اور زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے مناقب میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو زمانہ جاہلیت میں بھی بتوں کو چھونے سے منع فرما دیا گیا تھا۔