❮
❯
حدیث نمبر: 4216
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، أَهْدَبَ الْأَشْفَارِ - أَشْفَارِ الْعَيْنِ - لَمْ يَكُنْ سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ ، وَلَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا ، كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ چوڑی اور لمبی کلائیوں والے تھے، آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان چوڑائی تھی (یعنی آپ ﷺ چوڑے شانوں والے تھے)، آپ ﷺ کی آنکھوں کی پلکیں دراز اور گھنی تھیں، آپ ﷺ بازاروں میں چیخنے چلانے اور شور و غل مچانے والے نہیں تھے، آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں نہ تو فحش گوئی تھی اور نہ ہی آپ ﷺ تکلف سے بدکلامی کرنے والے تھے، آپ ﷺ (دورانِ گفتگو کسی کی طرف متوجہ ہونے کے لیے) اپنے پورے وجودِ مبارک کے ساتھ مڑتے تھے اور (واپس مڑتے ہوئے بھی) پورے بدنِ اطہر کے ساتھ رخ پھیرتے تھے۔“
اسے امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں صالح مولیٰ التوامہ نامی راوی کے حافظہ میں آخری عمر میں اختلاط (یادداشت کی کمزوری) کی وجہ سے کلام ہے، البتہ ان اوصافِ مبارکہ کے شواہد دیگر معتبر احادیث اور شمائل کی کتب میں موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4216
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 8152، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20490، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6320»