❮
❯
حدیث نمبر: 4214
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ ، قَالَ : فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِاسْتِلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ ؟ فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ .
قُلْتُ : هَذَا الْحَدِيثُ أَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، فَبَالَغُوا ، وَالْمُنْكَرُ فِيهِ قَوْلُهُ عَنِ الْمَلَكِ أَنَّهُ قَالَ : عَهْدُهُ بِاسْتِلَامِ الْأَصْنَامِ ، فَإِنَّ ظَاهِرَهُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاشَرَ الِاسْتِلَامَ ، وَلَيْسَ ذَلِكَ مُرَادًا ، بَلِ الْمُرَادُ أَنَّ الْمَلَكَ أَنْكَرَ شُهُودَهُ لِمُبَاشَرَةِ الْمُشْرِكِينَ اسْتِلَامَهُمْ أَصْنَامَهُمْ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اعلانِ نبوت سے پہلے) مشرکین کے ساتھ ان کی محافل و اجتماعات میں شریک ہوا کرتے تھے، آپ ﷺ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی جن میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: ”ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوں“، اس پر دوسرے فرشتے نے کہا: ”ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں جبکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ان کا بتوں کو چھونے (کے عمل) سے واسطہ رہا ہے؟“ چنانچہ اس واقعے کے بعد آپ ﷺ کبھی مشرکین کے ساتھ ان کی محافل میں شریک نہیں ہوئے۔
میں کہتا ہوں کہ محدثین نے اس حدیث کی وجہ سے عثمان بن ابی شیبہ پر جرح کی ہے اور اس میں کافی مبالغہ کیا گیا ہے، اس روایت میں منکر بات فرشتے کا یہ قول ہے کہ ”ان کا بتوں کو چھونے سے عہد رہا ہے“، کیونکہ اس کے ظاہری الفاظ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ (معاذ اللہ) آپ ﷺ نے بذاتِ خود بتوں کو چھوا تھا، حالانکہ یہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ فرشتے نے آپ ﷺ کی اس مقام پر موجودگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جہاں مشرکین اپنے بتوں کو چھونے کی شرکیہ کارروائی کر رہے تھے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4214
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1877»