المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الشام باب: سرزمینِ شام کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : خَوْلِيٌّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْ سَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا ، جُنْدًا بِالشَّامِ وَجُنْدًا بِالْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ خَوْلِيُّ : يَا رَسُولَ اللهِ خِرْ لِي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكَ بِالشَّامِ ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ، وَلْيَسْقِ بِغُدُرِهِ ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ .خولی نامی ایک شخص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم لوگ مجاہدین کے کئی لشکر بن جاؤ گے؛ ایک لشکر شام میں ہوگا اور ایک لشکر یمن میں۔“ تو خولی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! «خِرْ لِي» ”میرے لیے (بہترین مقام کا) انتخاب فرما دیجیے۔““ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم شام کو لازم پکڑ لو، پھر جو شخص (وہاں جانے سے) کترائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے یمن سے جا ملے اور وہاں کے تالابوں سے سیراب ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور وہاں کے بسنے والوں کی (حفاظت و کفالت کی) ذمہ داری لی ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس مفہوم کی دیگر احادیث صحیح اسناد کے ساتھ بھی مروی ہیں۔