المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الشام باب: سرزمینِ شام کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ سَعِيدٌ ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ انْتُزِعَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ عُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے (خواب میں) دیکھا کہ کتاب اللہ کا ستون میرے تکیے کے نیچے سے نکال لیا گیا ہے، پس میں نے اپنی نگاہوں سے اس کا تعاقب کیا تو اچانک وہ ایک نہایت درخشاں اور تابناک نور کی صورت میں تھا جسے ملکِ شام کی جانب منتقل کر دیا گیا؛ آگاہ رہو! جب فتنے اور آزمائشیں رونما ہوں گی تو ایمان (کی پناہ گاہ) ملکِ شام ہو گا۔“
اس حدیث کو امام احمد نے 'المسند' (6609) میں اور امام حاکم نے 'المستدرک' (8589) میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اور علامہ البانی نے بھی 'تخریج مشکاۃ المصابیح' (5955) میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔