المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ البصرة والكوفة باب: بصرہ اور کوفہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4194
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا سَلَّامٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا رَأَيْتُ أَخْصَاصًا إِلَّا أَخْصَاصًا كَانَتْ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدْفَعُ عَنْ هَذِهِ - يَعْنِي : بِالْكُوفَةِ .
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْأَخْصَاصُ بُيُوتٌ عِنْدَنَا مِنْ قَصَبٍ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے سرکنڈوں اور نرسل سے بنے جھونپڑوں کو ویسا نہیں پایا جیسے وہ جھونپڑے تھے جو محمد ﷺ کے عہدِ مبارک میں میسر تھے، وہ ان (کوفہ کی موجودہ بلند و بالا عمارتوں) کے مانند نہ تھے۔“
امام ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْأَخْصَاصُ» سے مراد ہمارے نزدیک وہ گھر ہیں جو سرکنڈوں یا نرسل سے تیار کیے جاتے ہیں۔