المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ البصرة والكوفة باب: بصرہ اور کوفہ کا بیان۔
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِ الزُّهْدِ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنِي أُنَيْسُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ قَعَدَ لَهُمْ وَأَغْلَظَ ، فَتَفَرَّقُوا ، فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللهِ ، مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَسَأْتَ ، قَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ مُدَاهِنُونَ ، أَتَعْرِفُنِي ؟ قُلْتُ : لَا قَالَ : أَنَا أَبُو ذَرٍّ ، فَمَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بَلَايَا بِالْعِرَاقِ وَذَلِكَ بِالْكُوفَةِ ، فَأَمَّا أَهْلُ الْبَصْرَةِ فَأَقْوَمُ الْأَمْصَارِ قِبْلَةً ، وَأَكْثَرُهُ مُؤَذِّنًا ، يَدْفَعُ اللهُ عَنْهُمْ مَا يَكْرَهُونَ .
4193 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ الرَّبَعِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَهْلَ الْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ سَتَنْزِلُ بِهِمْ بَلَايَا عِظَامٌ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَهْلَ الْبَصْرَةِ ، فَذَكَرَ أَنَّهُمْ أَفْضَلُ أَهْلِ الْأَمْصَارِ قِبْلَةً ، وَأَكْثَرُهُمْ مُؤَذِّنًا ، يُدْفَعُ عَنْهُمْ مَا يَكْرَهُونَ .سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو وہاں ایک گھنی داڑھی والے صاحب (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) کو دیکھا جو لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور ان سے نہایت سخت لب و لہجہ اختیار کر رہے تھے، جس کی وجہ سے لوگ وہاں سے منتشر ہو گئے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ”اے اللہ کے بندے! میرا خیال ہے کہ آپ نے (اس قدر سخت کلامی کر کے) زیادتی کی ہے۔“ انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ لوگ (دین کے معاملے میں) مصلحت پسندی اور چاپلوسی کرنے والے ہیں۔ کیا تم مجھے جانتے ہو؟“ میں نے کہا کہ ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا کہ ”میں ابوذر ہوں، تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ ”میں اہلِ بصرہ میں سے ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ ”کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے؟ آپ ﷺ فرماتے تھے: ”عراق میں فتنے اور آزمائشیں آئیں گی اور وہ (خاص طور پر) کوفہ میں ہوں گی، لیکن اہلِ بصرہ تمام شہروں میں قبلہ کی سمت کے لحاظ سے سب سے زیادہ درست، اذان دینے والوں (مؤذنین) کی کثرت والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے ان کی ناپسندیدہ چیزوں کو دور فرما دیتا ہے۔““
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہلِ کوفہ کا تذکرہ فرمایا اور ذکر کیا کہ ”عنقریب ان پر بڑی بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوں گی،“ پھر آپ ﷺ نے اہلِ بصرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ قبلہ کی سمت کے اعتبار سے تمام شہروں کے رہنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، ان میں مؤذن سب سے زیادہ ہیں اور ان سے ناگوار و ناپسندیدہ چیزیں دور رکھی جاتی ہیں۔“