المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ أهل مصر باب: اہلِ مصر کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ وَغَيْرَهُمَا يَقُولُونَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدَةٌ رُؤُوسُهُمْ ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا ، فَإِنَّهُمْ قُوَّةٌ لَكُمْ ، وَبَلَاغٌ إِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ، يَعْنِي : قِبْطَ مِصْرَ .
4195 \ 2 - رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى .
وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَابِعِيٌّ بِلَا رَيْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ لَيْسَ هُوَ الْمَخْزُومِيَّ ، بَلْ هُوَ آخَرُ مُخْتَلَفٌ فِي صُحْبَتِهِ .سیدنا ابوعبدالرحمن الحبلی اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہما وغیرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم عنقریب ایک ایسی قوم کے پاس پہنچو گے جن کے سروں کے بال گھنگریالے ہوں گے، پس تم ان کے حق میں میری خیر خواہی کی وصیت قبول کرنا؛ کیونکہ وہ تمہارے لیے باعثِ قوت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں (فتح و کامرانی کے حصول کے لیے) ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر کے قبطی لوگ ہیں۔
اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابو یعلیٰ سے روایت کیا ہے؛ نیز ابوعبدالرحمن بلا شبہ تابعی ہیں اور عمرو بن حریث وہ مشہور مخزومی صحابی نہیں ہیں بلکہ یہ دوسرے راوی ہیں جن کی صحابیت کے بارے میں (علماء کے مابین) اختلاف پایا جاتا ہے۔